data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

طویل عرصے سے کہا جاتا ہے کہ بیٹیاں رحمت ہوتی ہیں اور اب سائنسی تحقیق نے بھی اس خیال کو مضبوط بنیاد فراہم کر دی ہے۔

نئی طبی تحقیق کے مطابق بیٹیوں کی موجودگی نہ صرف والدین کی زندگی میں جذباتی خوشی کا باعث بنتی ہے بلکہ بڑھاپے میں ذہنی صحت کو بہتر رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے، خصوصاً والد کے لیے یہ تعلق غیر معمولی فوائد کا حامل ثابت ہوتا ہے۔

جرنل آف ویمن اینڈ ایجنگ میں شائع ہونے والی حالیہ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جن والدین، خاص طور پر باپ کی زندگی میں بیٹیاں شامل ہوتی ہیں، ان میں بڑھتی عمر کے ساتھ یادداشت کی کمزوری اور دماغی زوال جیسے مسائل کا خطرہ نسبتاً کم ہو جاتا ہے۔

تحقیق کے دوران عمر رسیدہ افراد کی ذہنی صلاحیتوں کا جائزہ لیا گیا، جس میں یہ بات سامنے آئی کہ بیٹیوں والے والدین میں سوچنے، سمجھنے اور یاد رکھنے کی صلاحیت زیادہ دیر تک برقرار رہتی ہے۔

تحقیق کے مطابق ایسے والد جن کی بیٹیاں ہیں، بڑھاپے میں بھی بہتر ذہنی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں، جبکہ صرف بیٹوں والے والدین میں دماغی کمزوری کے امکانات زیادہ پائے گئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فرق کی وجہ کسی جینیاتی یا جسمانی عنصر کے بجائے سماجی اور جذباتی عوامل ہیں، جو بیٹی اور والدین کے درمیان تعلق کو منفرد بناتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق بیٹیاں عموماً والدین کے زیادہ قریب رہتی ہیں، خاص طور پر اس مرحلے پر جب عمر بڑھنے کے ساتھ تنہائی، کمزوری اور عدم تحفظ کا احساس شدت اختیار کر لیتا ہے۔

بیٹیاں نہ صرف جذباتی سہارا فراہم کرتی ہیں بلکہ علاج معالجے، روزمرہ کی دیکھ بھال اور والدین کو فعال رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں، جو مجموعی طور پر دماغی سرگرمی کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

تحقیق میں یہ پہلو بھی سامنے آیا کہ بیٹیوں کا مثبت اثر ماؤں پر نسبتاً زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ مائیں بیٹیوں کے ساتھ جذباتی قربت اور سماجی رابطے سے زیادہ فائدہ اٹھاتی ہیں، جس کے باعث ان کی ذہنی صحت طویل عرصے تک بہتر رہتی ہے اور یادداشت سے متعلق مسائل کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیمنشیا ایک ایسی بیماری ہے جو بتدریج یادداشت، توجہ اور فیصلے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے اور اس کا کوئی حتمی علاج تاحال موجود نہیں۔

ایسے حالات میں مضبوط خاندانی تعلقات، سماجی روابط اور ذہنی مصروفیات اس مرض کے اثرات کو کم کرنے اور اس کی رفتار سست کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

تحقیق کا مجموعی نتیجہ یہی ہے کہ بیٹیاں محض گھر کی رونق یا جذباتی سہارا ہی نہیں ہوتیں بلکہ والدین کے لیے ذہنی سکون، تحفظ اور صحت مند بڑھاپے کی ضمانت بھی بن سکتی ہیں۔ یہ رشتہ محبت کے ساتھ ساتھ صحت کے حوالے سے بھی ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہوتا ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہوتا ہے کے ساتھ

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے