بیٹیوں کی پیدائش باپ کو کس خطرناک ذہنی بیماری سے محفوظ رکھتی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
طویل عرصے سے کہا جاتا ہے کہ بیٹیاں رحمت ہوتی ہیں اور اب سائنسی تحقیق نے بھی اس خیال کو مضبوط بنیاد فراہم کر دی ہے۔
نئی طبی تحقیق کے مطابق بیٹیوں کی موجودگی نہ صرف والدین کی زندگی میں جذباتی خوشی کا باعث بنتی ہے بلکہ بڑھاپے میں ذہنی صحت کو بہتر رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے، خصوصاً والد کے لیے یہ تعلق غیر معمولی فوائد کا حامل ثابت ہوتا ہے۔
جرنل آف ویمن اینڈ ایجنگ میں شائع ہونے والی حالیہ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جن والدین، خاص طور پر باپ کی زندگی میں بیٹیاں شامل ہوتی ہیں، ان میں بڑھتی عمر کے ساتھ یادداشت کی کمزوری اور دماغی زوال جیسے مسائل کا خطرہ نسبتاً کم ہو جاتا ہے۔
تحقیق کے دوران عمر رسیدہ افراد کی ذہنی صلاحیتوں کا جائزہ لیا گیا، جس میں یہ بات سامنے آئی کہ بیٹیوں والے والدین میں سوچنے، سمجھنے اور یاد رکھنے کی صلاحیت زیادہ دیر تک برقرار رہتی ہے۔
تحقیق کے مطابق ایسے والد جن کی بیٹیاں ہیں، بڑھاپے میں بھی بہتر ذہنی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں، جبکہ صرف بیٹوں والے والدین میں دماغی کمزوری کے امکانات زیادہ پائے گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فرق کی وجہ کسی جینیاتی یا جسمانی عنصر کے بجائے سماجی اور جذباتی عوامل ہیں، جو بیٹی اور والدین کے درمیان تعلق کو منفرد بناتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بیٹیاں عموماً والدین کے زیادہ قریب رہتی ہیں، خاص طور پر اس مرحلے پر جب عمر بڑھنے کے ساتھ تنہائی، کمزوری اور عدم تحفظ کا احساس شدت اختیار کر لیتا ہے۔
بیٹیاں نہ صرف جذباتی سہارا فراہم کرتی ہیں بلکہ علاج معالجے، روزمرہ کی دیکھ بھال اور والدین کو فعال رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں، جو مجموعی طور پر دماغی سرگرمی کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
تحقیق میں یہ پہلو بھی سامنے آیا کہ بیٹیوں کا مثبت اثر ماؤں پر نسبتاً زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ مائیں بیٹیوں کے ساتھ جذباتی قربت اور سماجی رابطے سے زیادہ فائدہ اٹھاتی ہیں، جس کے باعث ان کی ذہنی صحت طویل عرصے تک بہتر رہتی ہے اور یادداشت سے متعلق مسائل کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیمنشیا ایک ایسی بیماری ہے جو بتدریج یادداشت، توجہ اور فیصلے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے اور اس کا کوئی حتمی علاج تاحال موجود نہیں۔
ایسے حالات میں مضبوط خاندانی تعلقات، سماجی روابط اور ذہنی مصروفیات اس مرض کے اثرات کو کم کرنے اور اس کی رفتار سست کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
تحقیق کا مجموعی نتیجہ یہی ہے کہ بیٹیاں محض گھر کی رونق یا جذباتی سہارا ہی نہیں ہوتیں بلکہ والدین کے لیے ذہنی سکون، تحفظ اور صحت مند بڑھاپے کی ضمانت بھی بن سکتی ہیں۔ یہ رشتہ محبت کے ساتھ ساتھ صحت کے حوالے سے بھی ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہوتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔