شور کی آلودگی ایک ’خاموش قاتل‘ بن گئی، شہری شدید ذہنی دباؤ کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
روشنیوں کا شہر کراچی جہاں اپنی رونقوں کے لیے مشہور ہے، وہیں اب یہ شہر بے ہنگم شور اور صوتی آلودگی کا گڑھ بنتا جا رہا ہے۔
ماہرینِ ماحولیات کے مطابق شہر کے بیشتر علاقوں میں شور کی سطح بین الاقوامی معیار (85 ڈیسیبل) سے کہیں زیادہ تجاوز کر چکی ہے، جو شہریوں کی سماعت اور ذہنی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
مزید پڑھیں: مائیکروپلاسٹکس انسانی صحت کے لیے کس قدر خطرناک ہیں؟
ڈاکٹر بلال عارف کے مطابق شہر کی سڑکوں پر موجود پریشر ہارنز، رکشوں کے پھٹے ہوئے سائلنسرز اور خستہ حال بسیں شور کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ ٹریفک جام کے دوران غیر ضروری ہارن بجانا ایک نفسیاتی مسئلہ بن چکا ہے۔
بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے باعث تجارتی مراکز اور رہائشی علاقوں میں بڑے اور چھوٹے جنریٹرز کا بے تحاشا استعمال ہوتا ہے، جو مسلسل کان پھاڑنے والی آواز پیدا کرتے ہیں، رہائشی علاقوں میں بغیر کسی حفاظتی تدابیر کے جاری تعمیراتی کام اور بھاری مشینری کا استعمال شہریوں کے سکون کو برباد کررہا ہے۔
بازاروں میں گاہکوں کو متوجہ کرنے کے لیے لاؤڈ اسپیکرز کا استعمال اور شادی ہالز میں دیر رات تک جاری موسیقی بھی صوتی آلودگی میں اضافہ کررہی ہے۔
ڈاکٹر بلال عارف نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل شور میں رہنے سے کراچی کے شہریوں کو قوتِ سماعت میں کمی، ہائی بلڈ پریشر، امراضِ قلب، چڑچڑاپن، نیند کی کمی اور شدید ذہنی دباؤ کا سامنا ہے۔
’شہریوں نے حکومت سے اہم مطالبات کردیے‘ماہرین اور شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر درج ذیل اقدامات کیے جائیں تو اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے:
ٹریفک پولیس اور محکمہ ماحولیات کو پریشر ہارنز اور دھواں و شور چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کرنے کی ضرورت ہے۔
اس کے علاوہ گرین لائن اور ریڈ لائن جیسے ماس ٹرانزٹ منصوبوں کی تکمیل سے نجی گاڑیوں اور رکشوں کا استعمال کم ہوگا، جس سے شور میں کمی آئے گی۔
سڑکوں کے کنارے زیادہ سے زیادہ درخت لگانا شور کو جذب کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ درخت قدرتی ’ساؤنڈ بیریئرز‘ کا کام کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں پلاسٹک انسانی صحت اور قدرتی ماحول کس طرح تباہ کر رہاہے؟
رہائشی علاقوں کو تجارتی اور صنعتی شور سے محفوظ رکھنے کے لیے زوننگ کے قوانین پر سختی سے عمل کرایا جائے۔
اسکولوں اور میڈیا کے ذریعے شہریوں میں یہ شعور اجاگر کرنا ضروری ہے کہ ہارن کا غیر ضروری استعمال نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ دوسروں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews شہر قائد شہری اذیت کا شکار شور کی آلودگی کراچی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شہری اذیت کا شکار شور کی ا لودگی کراچی وی نیوز کے لیے شور کی
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔