PIAکے بعد عارف حبیب کی نیشنل شپنگ کارپوریشن پر نظریں
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
کراچی: (نیوزڈیسک) معروف کاروباری شخصیت عارف حبیب نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز
(PIA) کی بحالی کے بعد بلیو اکانومی میں سرمایہ کاری پر بھی نظریں مرکوز کر دی ہیں۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق عارف حبیب کی پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (PNSC) کی انتظامیہ کے ساتھ اہم ملاقات ہوئی، جس میں پاکستان کے سمندری وسائل کے بہتر استعمال کے ذریعے ملکی ترقی میں کردار ادا کرنے پر بات ہوئی۔
عارف حبیب کے مطابق پاکستان کے سمندری وسائل زیادہ تر غیر استعمال شدہ ہیں اور ملکی GDP میں ان کا حصہ صرف 0.
پی آئی اے کی بحالی کے حوالے سے عارف حبیب نے بتایا کہ تمام 34 طیارے ستمبر 2026 تک فعال ہو جائیں گے، جبکہ اس وقت صرف 17 فعال ہیں۔ خریداری کی کل قیمت 135 ارب روپے میں سے 125 ارب روپے براہِ راست نئے انجن کی خریداری اور PIA کی توسیع پر خرچ کیے جائیں گے۔ مزید برآں، PIA کی توسیع کے لیے ماہرین کو شامل کیا جائے گا اور تمام بھرتیاں میرٹ پر ہوں گی۔
عارف حبیب نے کہا کہ PIA کی نجکاری ملک کے وسیع اقتصادی اصلاحاتی ایجنڈے کے لیے سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور سرکاری خسارہ کم کرنے اور معیشت میں بہتری کے لیے اہم قدم ہے۔
انہوں نے بلیو اکانومی سیکٹر کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس میں اصلاحات اور سرمایہ کاری ناگزیر ہیں۔ اس شعبے میں جدت اور بہتر استعمال کے ذریعے ملکی معیشت مضبوط ہونے کے ساتھ روزگار کے اہم مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔