فائل فوٹو

وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پچھلے سال سے ٹیکس ریونیو 10 فیصد بڑھا،جولائی تا دسمبر ایف بی آر نے 6200 ارب روپےٹیکس جمع کیا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران احسن اقبال نے ماہانہ ڈیولپمنٹ آؤٹ لک رپورٹ کا اجراء کردیا۔

انہوں نے کہا کہ دسمبر کا مہینہ پاکستان کے اقتصادی و معاشی بحالی کے سفر کا تسلسل ہے، سیلاب سے سپلائی متاثر ہونے سے مہنگائی بڑھی۔

بھارت سہولت کاروں کے ذریعے پاکستان میں انتشار چاہتا ہے، احسن اقبال

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ بھارت اپنے سہولت کاروں کے ذریعے پاکستان میں انتشار چاہتا ہے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان میں مہنگائی میں کمی آئی ہے، برآمدات بڑھنا شروع ہوگئی ہیں، بڑی صنعتوں کی کارکردگی مثبت ہے، ترسیلات زر میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پہلی سہ ماہی کی 3 اعشاریہ 7 فیصد جی ڈی پی گروتھ حوصلہ افزاء ہے، ترقی کو برآمدات سےجوڑنا ہوگا، جولائی تا اکتوبر صنعتی گروتھ صفر اعشاریہ6 فیصد سے 5 فیصد ہوگئی۔

احسن اقبال نے یہ بھی کہا کہ جولائی سے دسمبر مہنگائی 7 اعشاریہ 2 فیصد سے 5 اعشاریہ 2 فیصد پر آگئی، 2 سال بعد بڑی صنعتوں کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔

بھارتی خود اپنی قیادت پر سوال اٹھا رہے ہیں: احسن اقبال

وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ بھارتی خود اپنی قیادت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض لوگ سست معاشی گروتھ پر تنقید کرتے ہیں، ہم مصنوعی جی ڈی پی گروتھ نہیں جاہتے، حکومت کو ایکسپورٹ ایمرجنسی لگانے کی تجویز دی ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ گزشتہ دور حکومت میں 6 فیصد گروتھ کے لیے امپورٹ کھولی گئیں، اس سے تجارتی خسارے میں 50 ارب ڈالر اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ گڈز سروسز کی مجموعی برآمدات 1 فیصد اضافے سے 16 اعشاریہ 6 ارب ڈالر ریکارڈ ہوئیں، ایکسپورٹرز کے ریفنڈز بروقت ادا کرنے کی سفارش کی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس میں ہاٹ لائن قائم کرنے کی سفارش کی ہے، ترسیلات زر 10 اعشاریہ 5 فیصد اضافے سے 19 اعشاریہ 7 ارب ڈالر ہوگئیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ 6 ماہ میں ترقیاتی منصوبوں کےلیے 356 ارب روپے کے اجراء کی منظوری دی، اس دوران 210 ارب روپے خرچ کر چکے ہیں، وزارت منصوبہ بندی نے ساڑھے3 ارب روپے کی بچت کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: احسن اقبال نے کہا وفاقی وزیر نے کہا کہ

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • 5 دنوں میں پٹرول اور ڈیزل اوسطاً 54 روپے بڑھا دیا گیا: تیمور جھگڑا