محمود خان اچکزئی کی پاکستانیت مشکوک ہوگئی ہے، ضیاء لانگو کا متنازع بیان
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
اپنے بیان میں سابق وزیر داخلہ ضیاء لانگو نے کہا کہ پشتونخوا میپ کے دور میں محمود خان اچکزئی فوج کی تعریفیں کرتے تھے۔ مسترد ہونے کے بعد عمران خان کا سہارا لیکر سیاست کر رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی ترجمان و سابق وزیر داخلہ ضیاء اللہ لانگو نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی پاکستانیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جب محمود خان اچکزئی حکومت میں تھے تو پاک فوج کی تعریفیں کرتے تھے، اب فوج کی مخالفت کرتے ہیں۔ ضیاء لانگو نے محمود خان اچکرئی کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ محمود خان کی سیاست ہمیشہ لسانی نفرت، قومی انتشار اور منفی بیانیے کے گرد گھومتی رہی ہے۔ جس سے نہ ماضی میں کوئی فائدہ ہوا اور نہ آئندہ اس سے بلوچستان یا پاکستان کو کوئی بہتری مل سکتی ہے۔ ان کی سیاست و سوچ ہمیشہ نفرت، تعصب اور انتشار کے گرد گھومتی رہی ہے۔ اپنے جاری کردہ بیان میں ضیاء لانگو نے کہا کہ محمود خان اچکزئی نے کبھی بلوچ اور پشتون کے درمیان نفرت کو ہوا دی، کبھی بلوچستان کے عوام کے دلوں میں پنجابیوں کے خلاف زہر بھرا جاتا رہا، مگر انہوں نے کبھی قومی یکجہتی، بھائی چارے اور استحکام کی بات نہیں کی۔ توڑ پھوڑ، علیحدگی اور نفرت کی سیاست و سوچ صرف خوابوں میں اچھی لگتی ہے، حقیقت میں اس کا کوئی وجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ انتخابات میں بلوچستان کے عوام نے محمود خان اچکزئی کو واضح طور پر مسترد کر دیا۔ اگر انہیں نواز شریف اور پی ڈی ایم کے سہارے کامیابی نہ ملتی تو ان کی جماعت کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا۔ اب اپنی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کو سہارا دینے کے لیے وہ پی ٹی آئی اور عمران خان کا کندھا استعمال کر رہے ہیں، جو خود ان کی سیاسی بے سمتی کا ثبوت ہے۔
ضیاء لانگو نے کہا کہ صرف ایک نشست کی بنیاد پر اپوزیشن لیڈر بننے کے خواب دیکھنا مضحکہ خیز ہے۔ پاکستان بالخصوص بلوچستان کے عوام اب باشعور ہو چکے ہیں اور جانتے ہیں کہ نفرت، قومیت اور انتشار کی سیاست نہ صرف ملک، بلکہ خود قوموں کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔ ’’دہ چترال دہ بولان‘‘ جیسے نعرے عوام پہلے ہی دیکھ اور سمجھ چکے ہیں۔ خواب دیکھنا کوئی جرم نہیں، مگر دن دہاڑے ایسے خواب دیکھنا جو کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکیں، سیاسی ناپختگی کی علامت ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ایسی بات کی جائے جس پر قائم بھی رہا جا سکے۔ ایسی باتوں اور بیانات سے تو ایسا لگتا ہے کہ محمود خان اچکزئی اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتے بھی ہیں کہ نہیں۔ اس طرح تو ان کی پاکستانیت بھی مشکوک ہوگئی ہے۔ پشتونخوا میپ کی 2013 میں بلوچستان حکومت میں محمود خان اچکزئی کے بھائی گورنر، ایک بھائی صوبائی وزیر، ایک چچازاد بھائی پی اے سی کے چیئرمین، پارٹی کے رہنماء مختلف اہم وزراتوں پر براجمان تھے، تو اس وقت تو پاک فوج کی تمام تقریبات میں شریک ہوکر نہ صرف پاک فوج کی تعریفیں کرتے تھے، بلکہ یہ کہتے تھے کہ پاکستان کی فوج ہی پاکستان کی سلامتی اور حفاظت کی علامت ہے۔ اب پاکستان سے علیحدگی کے بیانات پاگل پن ہے یا پھر ہوش کھونا یہ دہرایا معیار عوام کے سامنے آچکی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کی سیاست فوج کی
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز