اپنے بیان میں سابق وزیر داخلہ ضیاء لانگو نے کہا کہ پشتونخوا میپ کے دور میں محمود خان اچکزئی فوج کی تعریفیں کرتے تھے۔ مسترد ہونے کے بعد عمران خان کا سہارا لیکر سیاست کر رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی ترجمان و سابق وزیر داخلہ ضیاء اللہ لانگو نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی پاکستانیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جب محمود خان اچکزئی حکومت میں تھے تو پاک فوج کی تعریفیں کرتے تھے، اب فوج کی مخالفت کرتے ہیں۔ ضیاء لانگو نے محمود خان اچکرئی کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ محمود خان کی سیاست ہمیشہ لسانی نفرت، قومی انتشار اور منفی بیانیے کے گرد گھومتی رہی ہے۔ جس سے نہ ماضی میں کوئی فائدہ ہوا اور نہ آئندہ اس سے بلوچستان یا پاکستان کو کوئی بہتری مل سکتی ہے۔ ان کی سیاست و سوچ ہمیشہ نفرت، تعصب اور انتشار کے گرد گھومتی رہی ہے۔ اپنے جاری کردہ بیان میں ضیاء لانگو نے کہا کہ محمود خان اچکزئی نے کبھی بلوچ اور پشتون کے درمیان نفرت کو ہوا دی، کبھی بلوچستان کے عوام کے دلوں میں پنجابیوں کے خلاف زہر بھرا جاتا رہا، مگر انہوں نے کبھی قومی یکجہتی، بھائی چارے اور استحکام کی بات نہیں کی۔ توڑ پھوڑ، علیحدگی اور نفرت کی سیاست و سوچ صرف خوابوں میں اچھی لگتی ہے، حقیقت میں اس کا کوئی وجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ انتخابات میں بلوچستان کے عوام نے محمود خان اچکزئی کو واضح طور پر مسترد کر دیا۔ اگر انہیں نواز شریف اور پی ڈی ایم کے سہارے کامیابی نہ ملتی تو ان کی جماعت کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا۔ اب اپنی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کو سہارا دینے کے لیے وہ پی ٹی آئی اور عمران خان کا کندھا استعمال کر رہے ہیں، جو خود ان کی سیاسی بے سمتی کا ثبوت ہے۔
 
ضیاء لانگو نے کہا کہ صرف ایک نشست کی بنیاد پر اپوزیشن لیڈر بننے کے خواب دیکھنا مضحکہ خیز ہے۔ پاکستان بالخصوص بلوچستان کے عوام اب باشعور ہو چکے ہیں اور جانتے ہیں کہ نفرت، قومیت اور انتشار کی سیاست نہ صرف ملک، بلکہ خود قوموں کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔ ’’دہ چترال دہ بولان‘‘ جیسے نعرے عوام پہلے ہی دیکھ اور سمجھ چکے ہیں۔ خواب دیکھنا کوئی جرم نہیں، مگر دن دہاڑے ایسے خواب دیکھنا جو کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکیں، سیاسی ناپختگی کی علامت ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ایسی بات کی جائے جس پر قائم بھی رہا جا سکے۔ ایسی باتوں اور بیانات سے تو ایسا لگتا ہے کہ محمود خان اچکزئی اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتے بھی ہیں کہ نہیں۔ اس طرح تو ان کی پاکستانیت بھی مشکوک ہوگئی ہے۔ پشتونخوا میپ کی 2013 میں بلوچستان حکومت میں محمود خان اچکزئی کے بھائی گورنر، ایک بھائی صوبائی وزیر، ایک چچازاد بھائی پی اے سی کے چیئرمین، پارٹی کے رہنماء مختلف اہم وزراتوں پر براجمان تھے، تو اس وقت تو پاک فوج کی تمام تقریبات میں شریک ہوکر نہ صرف پاک فوج کی تعریفیں کرتے تھے، بلکہ یہ کہتے تھے کہ پاکستان کی فوج ہی پاکستان کی سلامتی اور حفاظت کی علامت ہے۔ اب پاکستان سے علیحدگی کے بیانات پاگل پن ہے یا پھر ہوش کھونا یہ دہرایا معیار عوام کے سامنے آچکی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: محمود خان اچکزئی نے کہا کہ کی سیاست فوج کی

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار