بھارت (ویب ڈیسک) اسرو کے مشن کنٹرول نے بتایا کہ راکٹ نے پرواز کے بیشتر حصے میں معمول کے مطابق کام کیا، تاہم اس کے بعد ایک غیر متوقع خلل سامنے آیا اور راکٹ اپنے راستے سے بھٹک گیا۔
زمین کی نگرانی کرنے والے سیٹلائٹ سمیت آلات اور تجربات کے 16 لوڈز لے جانے والا ایک بھارتی راکٹ روانگی کے بعد اپنے راستے سے بھٹک گیا، جو انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے سب سے اہم لانچ وہیکل کے لیے ایک تازہ دھچکا ہے۔

تقریباً آٹھ ماہ کے دوران پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (پی ایس ایل وی) کے لیے یہ دوسری مایوسی تھی، جس سے ماضی کے تقریباً 60 مشنز میں 90 فیصد سے زیادہ کامیابی کی شرح کے حامل اس راکٹ کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔

پی ایس ایل وی نے مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 18 منٹ پر سری ہری کوٹا جزیرے پر واقع ستیش دھون اسپیس سینٹر سے اڑان بھری، جس میں EOS-N1 مشاہداتی سیٹلائٹ اور بھارت اور بیرون ملک کے اسٹارٹ اپس اور تعلیمی اداروں کے تیار کردہ 15 دیگر پے لوڈز شامل تھے۔

اسرو کے مشن کنٹرول نے بتایا کہ راکٹ نے پرواز کے بیشتر حصے میں معمول کے مطابق کام کیا، تاہم اس کے بعد ایک غیر متوقع خلل سامنے آیا اور راکٹ اپنے راستے سے بھٹک گیا۔

اسرو نے ایک بیان میں مزید تفصیلات بتائے بغیر کہ کیا غلط ہوا یا راکٹ کہاں گرا، کہا کہ پی ایس ایل وی C62 مشن کو پی ایس 3 اسٹیج کے اختتام پر خرابی (anomaly) کا سامنا کرنا پڑا۔

پی ایس ایل وی بھارت کے خلائی پروگرام میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جس نے چندریان-1 اور آدتیہ-L1 شمسی رصد گاہ جیسے مشن لانچ کیے ہیں۔اور یہ بھارت کی نجی صنعت کو اسپیس مینوفیکچرنگ میں شامل کرنے کی کوششوں میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پی ایس ایل

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا