افغانستان کے لیجنڈ آل راؤنڈر محمد نبی اور ان کے بیٹے حسن عیسیٰ خیل نے ایک ہی ٹیم میں کھیل کر نئی تاریخ رقم کر دی۔

بنگلہ دیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) میں دونوں نے ایک ہی ٹیم میں ساتھ کھیل کر باپ بیٹے کی پہلی جوڑی ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا۔ 

سلہٹ میں ڈھاکا کیپیٹلز کے خلاف نوآخالی ایکسپریس کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے ڈیبیو میچ میں حسن عیسیٰ خیل نے 92 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ میچ سے قبل محمد نبی نے ٹاس سے پہلے اپنے بیٹے کو نوآخالی کی کیپ پیش کی۔

واضح رہے کہ نوآخالی ٹیم مینجمنٹ کو ابتدائی چھ میچز میں ناکامی کے بعد شدید تنقید کا سامنا تھا، جس کے بعد ٹیم میں متعدد تبدیلیاں کی گئیں اور حسن عیسیٰ خیل کی بھی ٹیم میں شمولیت ہوئی جنہوں نے میدان میں اترتے ہی اپنی صلاحیتوں کا بھرپور ثبوت دیا۔

حسن عیسیٰ خیل نے 60 گیندوں پر 7 چوکے اور 5 چھکے لگائے اور اپنی ٹیم کی اننگز کو سہارا دیا۔ انہوں نے ابتدا میں سومیا سرکار کے ساتھ اوپننگ شراکت میں 101 رنز جوڑے جبکہ بعد ازاں اپنے والد محمد نبی کے ساتھ چوتھی وکٹ کے لیے 53 رنز کی اہم پارٹنرشپ قائم کی۔

حسن کی بیٹنگ میں والد محمد نبی کی جھلک واضح نظر آئی۔ وہ بھی بیٹ کو نیچے سے پکڑتے ہیں اور ان کا اسٹانس پُرسکون ہے۔ اس کے علاوہ آف اسٹمپ کے باہر ڈرائیوز، اسکوائر کٹس، فلکس اور شاندار پل شاٹس میں نبی کی جھلک نظر آتی رہی، خاص طور پر پل شاٹ نے شائقین کو خاصا متاثر کیا۔

باپ بیٹے نے 14 ویں اوور میں ایک ساتھ کریز سنبھالی۔ اس موقع پر ڈھاکا کیپیٹلز کے وکٹ کیپر اور محمد نبی کے دیرینہ افغان ساتھی رحمان اللہ گرباز نے دونوں کو ایک ساتھ دیکھتے ہی گلے لگالیا۔

پارٹنرشپ کے دوران محمد نبی مسلسل بیٹے کی حوصلہ افزائی کرتے رہے، تاہم بیٹنگ میں برتری حسن عیسیٰ خیل کے پاس رہی۔ 

محمد نبی نے 13 گیندوں پر 17 رنز بنائے اور عبداللہ المامون کی گیند پر آؤٹ ہوئے، جبکہ اگلے ہی اوور میں حسن عیسیٰ خیل محمد سیف الدین کی گیند پر پویلین لوٹ گئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ محمد نبی اس سے قبل بھی مسابقتی میچز میں اپنے بیٹے کے خلاف کھیل چکے ہیں اور گزشتہ سال حسن عیسیٰ خیل کا نبی کو چھکا لگانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی تھی۔

حسن عیسیٰ خیل کی اس شاندار کارکردگی کے بعد امکان ہے کہ انہیں آئندہ میچز میں بھی محمد نبی کے ساتھ پلیئنگ الیون میں مزید مواقع ملیں گے اور یوں کرکٹ تاریخ کی یہ منفرد باپ بیٹے کی جوڑی مزید آگے بڑھ سکتی ہے۔

محمد نبی نے بیٹے کے ساتھ ایک ہی میچ کھیلنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ لمحہ وہ طویل عرصے سے دیکھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کریز پر ہم مسلسل بات کر رہے تھے کہ اگلی گیند تیز ہوگی یا سلو اور اس نے ہر صورتحال کو بخوبی پڑھا۔

محمد نبی نے مزید کہا کہ حسن عیسیٰ خیل گزشتہ دو برس سے مسلسل محنت کر رہے ہیں، ڈومیسٹک کرکٹ، فرسٹ کلاس، ون ڈے، شپیغیزا لیگ، نیپال پریمیئر لیگ اور اب بی پی ایل میں ان کی کارکردگی شاندار رہی ہے اور امید ہے کہ جلد انہیں افغانستان کی قومی ٹیم میں بھی دیکھا جائے گا۔

دوسری جانب حسن عیسیٰ خیل نے کہا کہ قومی ٹیم میں اپنے والد کے ساتھ کھیلنا ان کا بھی خواب ہے اسی لیے میں سخت محنت کر رہا ہوں۔ بیٹنگ اسٹائل سے متعلق سوال پر حسن نے کہا کہ وہ جان بوجھ کر اپنے والد کی نقل نہیں کرتے۔ اس پر محمد نبی مسکراتے ہوئے بولے کہ ’یہ سب قدرتی ہے، یہ جینز میں ہے‘۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ٹیم میں کے ساتھ کہا کہ خیل نے ایک ہی

پڑھیں:

فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد

فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔

اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔

60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔

فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔

اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔

دوسری جانب  52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی