افغان کرکٹر محمد نبی اور انکے بیٹے نے ایک ہی ٹیم میں کھیل کر تاریخ رقم کردی
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
افغانستان کے لیجنڈ آل راؤنڈر محمد نبی اور ان کے بیٹے حسن عیسیٰ خیل نے ایک ہی ٹیم میں کھیل کر نئی تاریخ رقم کر دی۔
بنگلہ دیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) میں دونوں نے ایک ہی ٹیم میں ساتھ کھیل کر باپ بیٹے کی پہلی جوڑی ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا۔
سلہٹ میں ڈھاکا کیپیٹلز کے خلاف نوآخالی ایکسپریس کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے ڈیبیو میچ میں حسن عیسیٰ خیل نے 92 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ میچ سے قبل محمد نبی نے ٹاس سے پہلے اپنے بیٹے کو نوآخالی کی کیپ پیش کی۔
واضح رہے کہ نوآخالی ٹیم مینجمنٹ کو ابتدائی چھ میچز میں ناکامی کے بعد شدید تنقید کا سامنا تھا، جس کے بعد ٹیم میں متعدد تبدیلیاں کی گئیں اور حسن عیسیٰ خیل کی بھی ٹیم میں شمولیت ہوئی جنہوں نے میدان میں اترتے ہی اپنی صلاحیتوں کا بھرپور ثبوت دیا۔
حسن عیسیٰ خیل نے 60 گیندوں پر 7 چوکے اور 5 چھکے لگائے اور اپنی ٹیم کی اننگز کو سہارا دیا۔ انہوں نے ابتدا میں سومیا سرکار کے ساتھ اوپننگ شراکت میں 101 رنز جوڑے جبکہ بعد ازاں اپنے والد محمد نبی کے ساتھ چوتھی وکٹ کے لیے 53 رنز کی اہم پارٹنرشپ قائم کی۔
حسن کی بیٹنگ میں والد محمد نبی کی جھلک واضح نظر آئی۔ وہ بھی بیٹ کو نیچے سے پکڑتے ہیں اور ان کا اسٹانس پُرسکون ہے۔ اس کے علاوہ آف اسٹمپ کے باہر ڈرائیوز، اسکوائر کٹس، فلکس اور شاندار پل شاٹس میں نبی کی جھلک نظر آتی رہی، خاص طور پر پل شاٹ نے شائقین کو خاصا متاثر کیا۔
باپ بیٹے نے 14 ویں اوور میں ایک ساتھ کریز سنبھالی۔ اس موقع پر ڈھاکا کیپیٹلز کے وکٹ کیپر اور محمد نبی کے دیرینہ افغان ساتھی رحمان اللہ گرباز نے دونوں کو ایک ساتھ دیکھتے ہی گلے لگالیا۔
پارٹنرشپ کے دوران محمد نبی مسلسل بیٹے کی حوصلہ افزائی کرتے رہے، تاہم بیٹنگ میں برتری حسن عیسیٰ خیل کے پاس رہی۔
محمد نبی نے 13 گیندوں پر 17 رنز بنائے اور عبداللہ المامون کی گیند پر آؤٹ ہوئے، جبکہ اگلے ہی اوور میں حسن عیسیٰ خیل محمد سیف الدین کی گیند پر پویلین لوٹ گئے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ محمد نبی اس سے قبل بھی مسابقتی میچز میں اپنے بیٹے کے خلاف کھیل چکے ہیں اور گزشتہ سال حسن عیسیٰ خیل کا نبی کو چھکا لگانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی تھی۔
حسن عیسیٰ خیل کی اس شاندار کارکردگی کے بعد امکان ہے کہ انہیں آئندہ میچز میں بھی محمد نبی کے ساتھ پلیئنگ الیون میں مزید مواقع ملیں گے اور یوں کرکٹ تاریخ کی یہ منفرد باپ بیٹے کی جوڑی مزید آگے بڑھ سکتی ہے۔
محمد نبی نے بیٹے کے ساتھ ایک ہی میچ کھیلنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ لمحہ وہ طویل عرصے سے دیکھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کریز پر ہم مسلسل بات کر رہے تھے کہ اگلی گیند تیز ہوگی یا سلو اور اس نے ہر صورتحال کو بخوبی پڑھا۔
محمد نبی نے مزید کہا کہ حسن عیسیٰ خیل گزشتہ دو برس سے مسلسل محنت کر رہے ہیں، ڈومیسٹک کرکٹ، فرسٹ کلاس، ون ڈے، شپیغیزا لیگ، نیپال پریمیئر لیگ اور اب بی پی ایل میں ان کی کارکردگی شاندار رہی ہے اور امید ہے کہ جلد انہیں افغانستان کی قومی ٹیم میں بھی دیکھا جائے گا۔
دوسری جانب حسن عیسیٰ خیل نے کہا کہ قومی ٹیم میں اپنے والد کے ساتھ کھیلنا ان کا بھی خواب ہے اسی لیے میں سخت محنت کر رہا ہوں۔ بیٹنگ اسٹائل سے متعلق سوال پر حسن نے کہا کہ وہ جان بوجھ کر اپنے والد کی نقل نہیں کرتے۔ اس پر محمد نبی مسکراتے ہوئے بولے کہ ’یہ سب قدرتی ہے، یہ جینز میں ہے‘۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹیم میں کے ساتھ کہا کہ خیل نے ایک ہی
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔