سہیل آفریدی نے افغان حکومت کا ترجمان بن کے جھوٹ اور منافقت کی انتہا کردی:وزیر اطلاعات
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
وفاقی وزیراطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ سہیل آفریدی نے افغان حکومت کا ترجمان بن کے جھوٹ اور منافقت کی انتہا کردی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ایک بیان پر وزیر اطلاعات نے ردعمل دیتے ہوئے انہیں جھوٹا اور منافق قرار دیا۔سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر سہیل آفریدی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے عطا تارڑ نے لکھا کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی آج افغانستان کے ترجمان کے طور پر بات کر رہے تھے جو انتہائی قابل مذمت ہے اور شرمناک ہے۔ انہوں نے لکھا کہ پوری دنیا نے افغان طالبان رجیم کی دہشت گردوں کی پشت پناہی کے ثبوت دیکھے ہیں جبکہ افغان سر زمین سے دہشت گردی کی کاروائیوں کے لیے استعمال ہونے کے نا قابل تردید شواہد بھی سامنے آچکے ہیں۔وزیر اطلاعات نے لکھا کہ سہیل آفریدی نے جھوٹ اور منافقت کی انتہا کر دی، پاکستانی قوم نے دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔