لاہور سے اغوا ہونے والی 5 سالہ ایمان فاطمہ ساہیوال سے بازیاب، ملزمہ گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ساہیوال: پولیس نے لاہور سے اغوا ہونے والی پانچ سالہ بچی ایمان فاطمہ کو ساہیوال سے بازیاب کرا کر ایک ملزمہ کو گرفتار کر لیا، جس سے شہر میں شہریوں میں عزم اور تحفظ کے جذبے کو فروغ ملا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس پی انویسٹی گیشن ماڈل ٹاؤن شاہد نواز کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دی تاکہ بچی کو جلد از جلد بازیاب کرایا جا سکے۔ ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی اور ہیومن انٹیلی جنس کے ساتھ مل کر کارروائی کی، جس کے نتیجے میں ملزمہ کو گرفتار اور بچی کو محفوظ حالت میں بازیاب کرایا گیا۔
انچارج انویسٹی گیشن تھانہ لیاقت آباد ولید حسین نے بتایا کہ بچی کے والد نے تھانہ میں مقدمہ درج کرایا تھا، جس کے بعد پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا۔
ملزمہ نے بچی کو اغوا کر کے ساہیوال منتقل کر دیا تھا، لیکن پولیس کی بروقت اور منظم کارروائی نے بچی کی زندگی کو خطرے سے بچا لیا۔
ایس پی انویسٹی گیشن شاہد نواز نے کہا کہ بچی کی بازیابی پولیس کی محنت اور جدید انٹیلیجنس کے امتزاج کا نتیجہ ہے، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کا مظہر ہے۔
پولیس کے مطابق بچی کو بازیابی کے بعد والدین کے حوالے کیا گیا، جنہوں نے پولیس ٹیم کی مہارت اور فوری کارروائی پر شکریہ ادا کیا، ایسے واقعات میں شہریوں کو یقین دلانا ضروری ہے کہ قانون کے دائرے میں ہر کوشش کی جاتی ہے تاکہ بچوں اور معصوم افراد کو ہر ممکن تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انویسٹی گیشن بچی کو
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔