رہبر معظم سید علی خامنہ ای دفاع اسلام کا آخری مورچہ، انکے ہمراہ ہر شخص مطمئن ہے، علامہ حسن ظفر نقوی
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
کانفرنس سے خطاب میں ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکریٹری جنرل نے کہا کہ مقاومت کبھی بھی ختم نہیں ہوگی، امریکا و اسرائیل کو چین سے سونے نہیں دیا جائیگا، امریکی حملے کی صورت میں اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائیگا، اسی لئے وہ جنگ کے بجائے پروپیگنڈے سے کام لے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ سید حسن ظفر نقوی کا کہنا ہے کہ رہبر معظم سید علی خامنہ ای دفاع اسلام کا آخری مورچہ ہیں، آج اگر اس روئے زمین پر کوئی اطمنان سے ہے تو ہر وہ شخص مطمئن ہے جو رہبر معظم سید علی خامنہ ای کے ساتھ ہے، جبکہ پوری دنیا پریشان ہے، ایران پر امریکی حملے کی صورت میں اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائیگا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے حامیان مظلومین جہان کراچی کے زیر اہتمام یاد شہدائے مقاومت و حمایت مظلومین جہان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ علامہ سید حسن ظفر نقوی نے کہا کہ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کیخلاف صہیونی امریکی ایماء پر پروپیگنڈا کرنیوالے چینلز اسلام اور مسلمانوں سے غداری کر رہے ہیں، رہبر معظم دفاع اسلام کا آخری مورچہ ہیں، خدانخواستہ اس مورچے کو کچھ ہوا تو یہ چینلز بھی عالمی طاغوت سے نہیں بچ پائینگے۔
علامہ سید حسن ظفر نقوی نے کہا کہ اسلام میں جان دے دینا، شہید ہو جانا شکست نہیں فتح کی علامت ہے، نواسہ رسولؐ سیدالشہداء امام حسینؑ نے میدان کربلا میں آل و اصحاب سمیت شہادت پیش کرکے تاقیامت فاتح بن گئے، اسلام کو زندہ اور یزیدیت و ظاغوت کو رسوا و شکست خوردہ کرگئے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ فلسطین میں ایک لاکھ سے زائد ہمارے بھائی بہنیں معصوم بچے مار دیئے گئے، کہاں تھی انسانی حقوق کے چیمپئین، جنگ بندی کے باوجود ہر روز اسرائیل مظلوم فلسطینیوں پر بم برسا رہا ہے، لیکن سب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، انہیں جمہوری اسلامی ایران میں امریکی اسرائیلی ایماء پر ہونے والے فساد پر بولنے کا کوئی حق نہیں۔
مرکزی رہنما ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ آج اگر اس روئے زمین پر کوئی اطمنان سے ہے تو ہر وہ شخص مطمئن ہے جو رہبر معظم سید علی خامنہ ای کے ساتھ ہے، جبکہ پوری دنیا پریشان ہے، کیونکہ جو لڑنا مرنا جانتا ہے اسے کسی باطل قوت کا کوئی خوف نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس دن رہبر معظم نے اشارہ کیا تو کوئی فسادی نظر نہیں آئے گا، نہ ان فسادیوں کو امریکا پناہ دے گا، جیسے اس نے اپنے ایجنٹ شاہ کو بھی پناہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ مقاومت و مزاحمت کبھی بھی ختم نہیں ہوگی، امریکا و اسرائیل کو چین سے سونے نہیں دیا جائیگا، کسی بھی امریکی حملے کی صورت میں اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائیگا، اسی لئے وہ جنگ کے بجائے پروپیگنڈے سے کام لے رہے ہیں۔
اسلامک ریسرچ سینٹر فیڈرل بی ایریا میں منعقدہ کانفرنس سے جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی رہنما ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی، مجلس ذاکرین امامیہ پاکستان کے سربراہ علامہ نثار احمد قلندری، جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ عقیل انجم قادری، فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر صابر ابو مریم، ایم ڈبلیو ایم سندھ کے رہنما علامہ حیات عباس نجفی و دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا، جبکہ معروف شاعر و ادیب فراست رضوی نے شہدائے مقاومت و مظلومین جہان سے متعلق اپنی خصوصی نظمیں پیش کیں۔ کانفرنس میں بڑی تعداد خواتین سمیت شہریوں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں نظامت کے فرائض علامہ مبشر حسن نے انجام دیئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رہبر معظم سید علی خامنہ ای پاکستان کے مرکزی حسن ظفر نقوی اسرائیل کو دیا جائیگا نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔