جوڈیشل کمیشن،3 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: جوڈیشل کمیشن کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دیدی گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا، جس میں اہم عدالتی معاملات پر غور کیا گیا۔
اجلاس کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ایڈیشنل ججز کی مستقلی کے معاملے پر تفصیلی غور کیا گیا، بلوچستان ہائیکورٹ کے 2 ایڈیشنل ججز کی مستقلی پر بھی اجلاس میں تبادلہ خیال ہوا۔
اجلاس میں وفاقی آئینی عدالت میں ججز کی تعیناتی کے لیے رولز بنانے کے معاملے کو بھی زیر غور لایا گیا۔
ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان کو مستقل کرنے کی منظوری دی، جسٹس محمد آصف اور جسٹس انعام امین منہاس کو بھی مستقل کرنے کی منظوری دی گئی۔
یہ فیصلہ جوڈیشل کمیشن نے اکثریت رائے سے کیا، پی ٹی آئی کے دو ارکان جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے پی ٹی آئی کے دو ممبران کی عدم شرکت کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن کو آگاہ کیا۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جوڈیشل کمیشن اجلاس میں بلوچستان ہائیکورٹ کے جسٹس نجم الدین مینگل کی بطور مستقل جج تعیناتی کی توثیق کی گئی، جسٹس ایوب خان کی توثیق کی سفارش اکثریتی رائے سے مسترد کردی گئی۔
آئینی بینچزکےلیے ججز نامزدگی کے معیار پر غور کرنے کےلیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، کمیٹی ججز تقرری انٹرویو، طریقہ کار اور رولز میں ترامیم پر سفارشات تیار کرے گی۔
ویب ڈیسک
Faiz alam babar
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مستقل کرنے کی منظوری جوڈیشل کمیشن ایڈیشنل ججز ہائیکورٹ کے اسلام آباد اجلاس میں
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔