Islam Times:
2026-07-24@09:08:54 GMT

جوڈیشل کمیشن کے تین الگ الگ اجلاس آج سپریم کورٹ میں ہوں گے

اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT

جوڈیشل کمیشن کے تین الگ الگ اجلاس آج سپریم کورٹ میں ہوں گے

اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ایڈیشنل ججز کی مستقلی پر غور ہوگا جن میں جسٹس محمد آصف، جسٹس اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس شامل ہیں۔دوسرا اجلاس بلوچستان ہائیکورٹ کے 2 ایڈیشنل ججز کی مستقلی پر ہو گا۔ اسلام ٹائمز۔ جوڈیشل کمیشن کے 3 الگ الگ اجلاس آج سپریم کورٹ آف پاکستان میں ہوں گے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ایڈیشنل ججز کی مستقلی پر غور ہوگا جن میں جسٹس محمد آصف، جسٹس اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس شامل ہیں۔دوسرا اجلاس بلوچستان ہائیکورٹ کے 2 ایڈیشنل ججز کی مستقلی پر ہو گا، جوڈیشل کمیشن جسٹس ایوب خان اور جسٹس نجم الدین مینگل کو مستقل کرنے پر غور کرے گا، جبکہ تیسرے اجلاس میں آئینی عدالت اور ہائی کورٹس میں ججز کی تعیناتیوں کا فریم ورک زیر غور آئے گا۔ اعلیٰ عدلیہ میں تعیناتی سے قبل امیدواروں کے انٹرویوز کا طریقہ کار بھی ایجنڈے میں شامل ہے، وفاقی آئینی عدالت میں مزید ججز کی تعیناتی کا طریقہ کار بھی طے کیا جائے گا، آرٹیکل 175 اے کی شق چار میں ججوں کی تقرری سے قبل انٹرویوز کرنے کا ذکر ہے، تاہم جوڈیشل کمیشن رولز 2025ء میں امیدواروں کے انٹرویو کا طریقہ کار نہیں دیا گیا، ہائیکورٹس میں آئینی بنچز کیلئے ججز کی نامزدگیوں کا طریقہ کار بھی زیر غور آئے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایڈیشنل ججز کی مستقلی پر جوڈیشل کمیشن کا طریقہ کار ہائیکورٹ کے

پڑھیں:

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا

اسلام آباد:

ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔

حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔

واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔

درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔

متعلقہ مضامین

  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس