جوڈیشل کمیشن کے 3 الگ الگ اجلاس آج سپریم کورٹ میں ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) جوڈیشل کمیشن کے 3 الگ الگ اجلاس آج سپریم کورٹ آف پاکستان میں ہوں گے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ایڈیشنل ججز کی مستقلی پر غور ہوگا جن میں جسٹس محمد آصف، جسٹس اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس شامل ہیں۔
دوسرا اجلاس بلوچستان ہائیکورٹ کے 2 ایڈیشنل ججز کی مستقلی پر ہوگا، جوڈیشل کمیشن جسٹس ایوب خان اور جسٹس نجم الدین مینگل کو مستقل کرنے پر غور کرے گا، جبکہ تیسرے اجلاس میں آئینی عدالت اور ہائی کورٹس میں ججز کی تعیناتیوں کا فریم ورک زیرغور آئے گا۔
اعلیٰ عدلیہ میں تعیناتی سے قبل امیدواروں کے انٹرویوز کا طریقہ کار بھی ایجنڈے میں شامل ہے، وفاقی آئینی عدالت میں مزید ججز کی تعیناتی کا طریقہ کار بھی طے کیا جائے گا، آرٹیکل 175 اے کی شق چار میں ججوں کی تقرری سے قبل انٹرویوز کرنے کا ذکر ہے، تاہم جوڈیشل کمیشن رولز 2025 میں امیدواروں کے انٹرویو کا طریقہ کار نہیں دیا گیا، ہائیکورٹس میں آئینی بنچز کیلئے ججز کی نامزدگیوں کا طریقہ کار بھی زیر غور آئے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جوڈیشل کمیشن کا طریقہ کار ججز کی
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔