Daily Pakistan:
2026-07-24@05:02:19 GMT

جوڈیشل کمیشن کے 3 الگ الگ اجلاس آج سپریم کورٹ میں ہوں گے

اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT

جوڈیشل کمیشن کے 3 الگ الگ اجلاس آج سپریم کورٹ میں ہوں گے

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)جوڈیشل کمیشن کے 3 الگ الگ اجلاس آج سپریم کورٹ آف پاکستان میں ہوں گے۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ایڈیشنل ججز کی مستقلی پر غور ہوگا جن میں جسٹس محمد آصف، جسٹس اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس شامل ہیں۔

دوسرا اجلاس بلوچستان ہائیکورٹ کے 2 ایڈیشنل ججز کی مستقلی پر ہوگا، جوڈیشل کمیشن جسٹس ایوب خان اور جسٹس نجم الدین مینگل کو مستقل کرنے پر غور کرے گا، جبکہ تیسرے اجلاس میں آئینی عدالت اور ہائی کورٹس میں ججز کی تعیناتیوں کا فریم ورک زیرغور آئے گا۔

جیل میں ڈکی بھائی نے کیا سیکھا؟ زندگی بدل دینے والے تجربات کا انکشاف

اعلیٰ عدلیہ میں تعیناتی سے قبل امیدواروں کے انٹرویوز کا طریقہ کار بھی ایجنڈے میں شامل ہے، وفاقی آئینی عدالت میں مزید ججز کی تعیناتی کا طریقہ کار بھی طے کیا جائے گا، آرٹیکل 175 اے کی شق چار میں ججوں کی تقرری سے قبل انٹرویوز کرنے کا ذکر ہے، تاہم جوڈیشل کمیشن رولز 2025 میں امیدواروں کے انٹرویو کا طریقہ کار نہیں دیا گیا، ہائیکورٹس میں آئینی بنچز کیلئے ججز کی نامزدگیوں کا طریقہ کار بھی زیر غور آئے گا۔
 

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: جوڈیشل کمیشن کا طریقہ کار ججز کی

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن