امریکا کی ایران پر حملے کی دھمکی؛ چین کا ردعمل سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
ایران میں جاری مظاہروں میں ہونے والی ہلاکتوں پر امریکا کی فوجی کارروائی کی دھمکی پر چین کا اہم بیان سامنے آگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ چین بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے اور تمام ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے احترام کو ناگزیر سمجھتا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ چین کو امید ہے کہ ایران کی حکومت اور عوام موجودہ مشکل صورتحال پر قابو پالیں گے اور ملک میں استحکام اور نظم و ضبط برقرار رہے گا۔
چینی ترجمان نے اس بات پر بھ زور دیا کہ کسی بھی تنازع کا حل فوجی طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ دو طرفہ مذاکرات اور سیاسی عمل کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔
یاد رہے کہ فلوریڈا سے واشنگٹن ڈی سی جاتے ہوئے صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ممکن ہے ایران پر مذاکرات سے پہلے ہی کارروائی کرنا پڑے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ ایران مذاکرات کرنا چاہتا ہے اور ملاقات کے انتظامات کیے جا رہے ہیں تاہم امریکا کے پاس انتہائی طاقتور آپشنز موجود ہیں جن میں فوجی کارروائی بھی شامل ہے۔
مزید پڑھیںخود کو وینزویلا اور اپنے وزیر خارجہ کو کیوبا کا صدر بنا دیا؛ ٹرمپ چاہتے کیا ہیں؟
ٹرمپ کا انجام فرعون، نمرود اور رضا شاہ جیسا ہوگا، ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کا سخت پیغام
ان کا کہنا تھا کہ ایران میں جاری مظاہروں میں شہریوں کی ہلاکتوں پر امریکا گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ امریکی فوج یہ معاملہ قریب سے مانیٹر کر رہی ہے اور ایرانی اپوزیشن رہنماؤں سے بھی رابطے میں ہیں۔
امریکی صدر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان سے رابطہ کریں گے تاکہ ایران میں انٹرنیٹ سروس کی بحالی میں مدد فراہم کی جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ اس سلسلے میں ایلون مسک سے بھی بات کریں گے تاکہ ایرانی عوام تک معلومات کی رسائی ممکن بنائی جا سکے۔
صدر ٹرمپ کی دھمکیوں کے جواب میں ایران کے وزیرِ خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ اور مذاکرات دونوں کے لیے تیار ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران دباؤ یا دھمکیوں کے تحت کوئی فیصلہ نہیں کرے گا اور اپنے قومی مفادات کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہ ایران
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔