ٹرمپ کے اقدامات دنیا کو عالمی جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں، قاضی عبدالقدیر خاموش
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
سرپرست جمعیت اہلحدیث کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کی ایران میں مظاہروں سے متعلق گفتگو اندرونی معاملات میں مداخلت ہے، وینزویلا پر امریکی حملہ اور صدر مادورو کا اغواء عالمی قوانین کی کھلی نفی ہے، امریکی عزائم چین اور روس کے اشتعال انگیز ہیں، عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے، تیسری دنیا کے ممالک کو امریکی استبداد کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔ اسلام ٹائمز، جمعیت اہلحدیث پاکستان کے سرپرست اور اے آر ڈی کے سابق سیکرٹری جنرل قاضی عبدالقدیر خاموش نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات دنیا کو عالمی جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں، جس کا خمیازہ انسانیت کو بھگتنا پڑے گا۔ سرمایہ دارانہ سوچ اور طاقت کے نشے میں دھت امریکی صدر انسانیت کے خلاف اقدامات میں مصروف ہیں، انہیں اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا، ورنہ تیسری عالمی جنگ کو روکا نہیں جا سکے گا۔
لاہور میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا وینزویلا پر امریکی حملہ اور صدر مادورو کا اغواء بین الاقوامی اداروں اور عالمی قوانین کی نفی ہے، امریکی عزائم چین اور روس کے اشتعال انگیز ہیں، ایسا جاری رہا تو عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے، جس کا نقصان انسانیت اور عالمی امن کو ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ تیسری دنیا کے ممالک کو امریکی استبداد کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا، ایران سے ہمارا فکری اختلاف اپنی جگہ لیکن امریکی صدر کی ایران میں مظاہروں سے متعلق گفتگو عالمی قوانین سے متصادم اور اندرونی معاملات میں مداخلت ہے، امید کرتے ہیں کہ امریکی صدر اپنا رویہ تبدیل کریںگے اور عالمی قوانین کو تسلیم کرنے کی عادت ڈالیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عالمی قوانین امریکی صدر عالمی جنگ
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔