اپنے بیان میں بلوچستان کے ڈاکٹروں نے کہا کہ چار ماہ سے بلوچستان ہیلتھ کارڈ کی ادائیگیاں مکمل طور پر معطل ہے۔ سنگین مسئلے کا اگر فوری نوٹس نہیں لیا گیا تو ہیلتھ کارڈ فلاحی منصوبے کا کام مکمل ناکام ہو جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ ڈاکٹروں کا الزام ہے کہ حکومت بلوچستان نے گزشتہ چار ماہ سے ہیلتھ کارڈ کی مد میں واجب الادا رقوم ہسپتالوں کو ادا نہیں کی ہیں، جس کے باعث مالی مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔ اپنے بیان میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ زون کے صدر ڈاکٹر نادر خان اچکزئی، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر شعیب بلوچ اور دیگر کابینہ اراکین نے کہا ہے کہ چار ماہ سے بلوچستان ہیلتھ کارڈ اپنی ادائیگیاں مکمل طور پر معطل کر چکا ہے، جس سے ہسپتالوں میں علاج نہ ہونے سے غریب عوام پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے گزشتہ چار ماہ سے سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں ہیلتھ کارڈ کی مد سے واجب الادا رقوم ادا نہیں کی ہے۔ جس سے تمام ہسپتال انتظامیہ شدید مالی دباؤ کا شکار ہے اور علاج معالجے کی سہولت کی صورتحال بدترین شکل اختیار کر چکا ہے۔ جس پر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ زون کو انتہائی تشویش ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے ہیلتھ کارڈ کے لئے عوامی فلاح کے نام سے مختص کیے گئے بجٹ کی عدم ادائیگی عوام کے ساتھ ناانصافی اور ظلم کی مترادف ہے۔ پہلے ہی غریب بے روزگاری اور مہنگائی سے پریشان عوام کے لئے علاج کی سہولت کا بند ہو جانا ایک سنگین انسانی علمیہ بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کی ادائیگیاں روک دیئے جانے کے باعث کئی ہسپتالوں میں ہیلتھ کارڈ کے تحت علاج محدود، جبکہ بعض جگہوں پر مکمل طور پر بند ہونے کے خدشات پیدا ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال نے مریضوں اور ان کے لواحقین کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس سنگین مسئلے کا اگر فوری نوٹس نہیں لیا گیا تو ہیلتھ کارڈ فلاحی منصوبے کا کام مکمل ناکام ہو جائے گا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان اور چیف سیکرٹری بلوچستان سے پرزور مطالبہ کیا کہ اس سنگین مسئلے کا نوٹس لیتے ہوئے ادائیگیاں فوری کی جائیں اور اس فلاحی منصوبے کو عملی طور پر بحال کیا جائے، تاکہ عوام کو بغیر کسی تاخیر کے علاج معالجے کی سہولت میسر آ سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ہیلتھ کارڈ چار ماہ سے نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان

کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے  جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔

ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔

حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔

2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔

 کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم  اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک  ہے۔

ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو  نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک  محیط  ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام  تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔

سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔

یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔

صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔

نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ  سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔

پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن  اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔

اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے  80 فیصد  قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟