بلوچستان ہیلتھ کارڈ اپنی ادائیگیاں مکمل طور پر معطل کر چکا ہے، ڈاکٹرز
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
اپنے بیان میں بلوچستان کے ڈاکٹروں نے کہا کہ چار ماہ سے بلوچستان ہیلتھ کارڈ کی ادائیگیاں مکمل طور پر معطل ہے۔ سنگین مسئلے کا اگر فوری نوٹس نہیں لیا گیا تو ہیلتھ کارڈ فلاحی منصوبے کا کام مکمل ناکام ہو جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ ڈاکٹروں کا الزام ہے کہ حکومت بلوچستان نے گزشتہ چار ماہ سے ہیلتھ کارڈ کی مد میں واجب الادا رقوم ہسپتالوں کو ادا نہیں کی ہیں، جس کے باعث مالی مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔ اپنے بیان میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ زون کے صدر ڈاکٹر نادر خان اچکزئی، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر شعیب بلوچ اور دیگر کابینہ اراکین نے کہا ہے کہ چار ماہ سے بلوچستان ہیلتھ کارڈ اپنی ادائیگیاں مکمل طور پر معطل کر چکا ہے، جس سے ہسپتالوں میں علاج نہ ہونے سے غریب عوام پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان نے گزشتہ چار ماہ سے سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں ہیلتھ کارڈ کی مد سے واجب الادا رقوم ادا نہیں کی ہے۔ جس سے تمام ہسپتال انتظامیہ شدید مالی دباؤ کا شکار ہے اور علاج معالجے کی سہولت کی صورتحال بدترین شکل اختیار کر چکا ہے۔ جس پر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ زون کو انتہائی تشویش ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے ہیلتھ کارڈ کے لئے عوامی فلاح کے نام سے مختص کیے گئے بجٹ کی عدم ادائیگی عوام کے ساتھ ناانصافی اور ظلم کی مترادف ہے۔ پہلے ہی غریب بے روزگاری اور مہنگائی سے پریشان عوام کے لئے علاج کی سہولت کا بند ہو جانا ایک سنگین انسانی علمیہ بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کی ادائیگیاں روک دیئے جانے کے باعث کئی ہسپتالوں میں ہیلتھ کارڈ کے تحت علاج محدود، جبکہ بعض جگہوں پر مکمل طور پر بند ہونے کے خدشات پیدا ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال نے مریضوں اور ان کے لواحقین کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس سنگین مسئلے کا اگر فوری نوٹس نہیں لیا گیا تو ہیلتھ کارڈ فلاحی منصوبے کا کام مکمل ناکام ہو جائے گا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان اور چیف سیکرٹری بلوچستان سے پرزور مطالبہ کیا کہ اس سنگین مسئلے کا نوٹس لیتے ہوئے ادائیگیاں فوری کی جائیں اور اس فلاحی منصوبے کو عملی طور پر بحال کیا جائے، تاکہ عوام کو بغیر کسی تاخیر کے علاج معالجے کی سہولت میسر آ سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہیلتھ کارڈ چار ماہ سے نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔