سول سپر میسی ایک نام رہ گیا ، اب فیصلے راولپنڈی میں ہو رہے ہیں ، فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
سول سپر میسی ایک نام رہ گیا ، اب فیصلے راولپنڈی میں ہو رہے ہیں ، فضل الرحمان WhatsAppFacebookTwitter 0 12 January, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی کی ہے۔جے یو آئی ڈیجیٹل میڈیا کنونشن میں شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آج کے کنونشن کے انعقاد پر سب کو مبارکباد دیتا ہوں، اِس سے پہلے بھی مختلف صوبوں کے کنونشن میں شریک ہوا ہوں ۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی زندگی میں میرا ایک سوال رہا ہے ، کسی بھی میدان میں کہیں نہ کہیں ہماری کمیاں رہی ہیں، خاص طور پر میڈیا کا جو مزاج ، کام اور مختلف پہلو اسلام کے متصادم رہا ہے، سوشل میڈیا پر لوگوں کی تضحیک کی جاتی ہے۔سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ علما دین کی تعلیمات دیتے ہیں کبھی کبھی وہ کام سے تھک کر مزاح بھی کرتے ہیں، علما اکرام کے مزاح کو تنقید بنایا جاتا ہے، سوشل میڈیا پر لوگوں کی تضیک کی جاتی ہے، اسلام میں لوگوں کے عیب پر پردہ ڈالا جاتا ہے مگر سوشل میڈیا اور میڈیا منفی انداز سے اِسے دیکھتا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ منفی انداز شریعت کے خلاف ہے، خبر کی تصدیق کرو، اگر کوئی شخص آپ کے پاس خبر کے کر آتا ہے تو پہلے اس پہ تحقیق کرو، ہمارا معاشرہ جھوٹی خبر جان بوجھ کر پھیلاتا ہے تا کہ مخالف کے خلاف استعمال کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ہر نوجوان مختلف باتیں کرتا ہے، جو نئی بات آ جائے ہر کوئی اس پکڑ لیتا ہے، جس کی سمجھ میں جو بات آئی اس نے وہ ہی شروع کر دی ، دنیا میں مختلف حکومتیں آتی جاتی رہیں مگر آزادی کی خاطر ہماری قربانیاں نمایاں ہیں۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ کا دنیا میں آج جمہوری نظام نہیں ہے ، جس کہ پاس طاقت اور سرمایہ ہے وہ جو چاہے کر رہا ہے،امریکہ جب چاہے کہیں بھی گھس جاتا ہے ، روس بھی اس کے پیچھے ہے، ہمارے ہاں بھی جمہوریت نہیں ہے اِس کی جگہ طاقت نے لے رکھی ہے۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ایک برائے نام سی جمہوریت جس میں ڈھونگ ہے، ملک میں کسی صوبے میں کوئی بھی حکومت منتخب حکومت نہیں، اِس بات کا کسی کو کوئی احساس نہیں، ہم اس کے متاثر ہیں، ہم پہ گزری ہے۔انہوں نے کہا کہ آج بھی اسلامی نظام کے علاوہ کوئی نظام نہیں جو انصاف فراہم کر سکے، چھبیسویں ترمیم میں ہم نے حکومت سے انتہا مذکرات کیے اور 32 نکات رکھے، ایک سال کے اندر ہی نئی ترمیم آ گئی، ستائیسویں ترمیم نے بتایا جنگ نظریات کی نہیں اتھارٹی کی ہے۔سربراہ جے یو آئی کا مزید کہنا تھا کہ سول سپر میسی ایک نام رہ گیا ہے اب فیصلے پنڈی میں ہو رہے، ہماری عوام اِس سے لاعلم ہے، علما پر فتوے لگانا یہ کون لوگ؟ جو اس طرح کے فتوے لگاتے ہیں اِن لوگوں نے جھوٹی احادیث گھڑ رکھی ہیں،یہ ضعیف احادیث بیان کرتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان وینزویلا نہیں،مودی نے یاسین ملک پر ہاتھ ڈالا تو دنیا کے نقشے پر ہندوستان نہیں رہے گا، مشعال ملک پاکستان وینزویلا نہیں،مودی نے یاسین ملک پر ہاتھ ڈالا تو دنیا کے نقشے پر ہندوستان نہیں رہے گا، مشعال ملک صدر آصف علی زرداری کل چار روزہ سرکاری دورے پر بحرین روانہ ہوں گے حکومت اب سپراسپیڈ سے نکل کر ونڈربوائے کی متلاشی ہوگئی ، بیرسٹرگوہر سب کی سلامتی کا تحفظ کیا جانا چاہئے ، چین کا ایران پر ممکنہ امریکی حملے کی رپورٹس پر ردعمل صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس کا اجرا، پی پی کا ایوان سے واک آوٹ، پارلیمانی پارٹی اجلاس بلالیا بھارت کا ایک اور خلائی مشن ناکام، زمین کی نگرانی کیلئے بھیجا گیا سیٹلائٹ مشن راستہ بھٹک گیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ نے کہا کہ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔