خود کو وینزویلا اور اپنے وزیر خارجہ کو کیوبا کا صدر بنا دیا؛ ٹرمپ چاہتے کیا ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو وینزویلا کا صدر قرار دینے کے بعد اپنے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو کیوبا کا صدر بنانے کا اشارہ دیدیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ حیران کن انکشاف صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے جواب میں کیا۔
اس پوسٹ میں ایک غیر معروف صارف نے مذاقاً لکھا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کیوبا کے اگلے صدر بنیں گے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اس پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے حیران کن جواب دیا کہ ’’مجھے یہ آئیڈیا پسند آیا‘‘۔
???? BREAKING: President Trump says Marco Rubio will be appointed the next President of CUBA ????
“Marco Rubio will be President of Cuba”
TRUMP: “Sounds good to me!”
The jobs just keep coming for Marco ???? pic.
ابھی یہ واضح نہیں کہ صدر ٹرمپ نے ایسا مذاقاً کہا ہے کہ یا وہ واقعی ایسا کرنے کا ارادہ رکھتے بھی ہیں۔ بہر حال صورت حال چند روز میں واقع ہوجائے گی۔
تاہم صدر ٹرمپ کی اس پوسٹ کی اہمیت اس وجہ سے بھی بڑھ گئی ہے کہ انھوں نے خبردار کیا ہے کہ کیوبا کو اب وینزویلا سے تیل نہیں ملے گا۔
صدر ٹرمپ نے کیوبا کو دھمکی دی کہ وہ امریکا کے ساتھ معاہدہ کرلے ورنہ سنگین نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہے۔
امریکی صدر نے کیوبا کے ہم منصب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ معاہدہ جلد از جلد کرلیں۔ اس سے قبل کہ کافی دیر ہوجائے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا کے تیل اور رقم کی وجہ سے کیوبا کا معاشی نظام چل رہا تھا مگر اب وہ سپورٹ ختم ہوگئی ہے۔
مزید پڑھیںٹرمپ نے خود کو وینزویلا کا عبوری صدر قرار دے دیا، نئی تصویر جاری کردی
ٹرمپ کی کیوبا کو بھی دھمکی، امریکا سے معاہدے کا مطالبہ
جس پر کیوبا کے صدر نے کہا کہ کوئی بھی ہمیں یہ نہیں بتاسکتا کہ بطور ریاست ہمیں کیا کرنا ہے۔ ہم ایک آزاد اور خود مختار ریاست ہیں۔
“…THERE WILL BE NO MORE OIL OR MONEY GOING TO CUBA - ZERO! I strongly suggest they make a deal, BEFORE IT IS TOO LATE. Thank you for your attention to this matter.”- President Donald J. Trump pic.twitter.com/bHEIysJ7q1
— The White House (@WhiteHouse) January 11, 2026انھوں نے مزید کہا کہ یہ دھمکیاں نئی نہیں ہیں، کیوبا کو ہمیشہ سے امریکی جارحیت کا سامنا رہا ہے۔ ہم ان دھمکیوں سے نہیں ڈریں گے۔
یاد رہے کہ حال ہی امریکی فورسز ٹرمپ کے حکم پر وینزویلا کے صدر کو اہلیہ سمیت ان کے صدارتی محل سے گرفتا کر کے نیویارک لائے۔
جہاں وینزویلا کے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ پر منشیات اسمگلنگ سمیت سنگین جرائم کے الزامات پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔
دونوں نے عدالت میں ان الزامات کو سیاسی اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا اور کہا کہ ہمیں گرفتار نہیں بلکہ ہمارے ملک سے ہمیں اغوا کرکے امریکا لایا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔