سیاست کو بند گلی سے نکالنے کے لیے قومی قیادت کو آگے بڑھ کر سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا، لیاقت بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
اجلاس سے خطاب کے دوران نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ امریکہ سمیت طاغوتی قوتوں کا منافقانہ کردار بے نقاب ہوچکا ہے، بدل دو نظام کو ایک نعرہ نہیں بلکہ تحریک کا نام ہے، نظام و قیادت کی تبدیلی سے ہی ملک و قوم کی تقدیر کو بدلا جاسکتا ہے جس کے لیے جماعت اسلامی روز اول سے جدوجہد کر ہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مرکزی نائب امیر جماعت اسلامی و سابق پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ سیاست کو بند گلی سے نکالنے کے لیے قومی قیادت کو آگے بڑھ کر آئین و قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کی بالادستی سمیت ملک کو معاشی سیاسی بحرانوں سے نکالنے کے لیے ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر سر جوڑ کربیٹھنا ہوگا، ہر جماعت کو جلسہ سیاسی سرگرمیوں کے ذریعے عوام تک اپنا پیغام پہنچانے کا حق حاصل ہونا چاہئے، امریکہ کے دنیا کو فتح کرنے کے جارحانہ عزائم سے عالمی امن کو خطرہ ہے، غزہ میں انسانیت کے قتل عام کے سرپرست صدر ٹرمپ کا اپنی فوج کو جب جہاں چاہے حملے کرنے کا بیان اس کو نوبل انعام کے لیے نامزدکرنے والے حکمرانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے، غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی پر خاموش تماشائی اور ایران میں احتجاجی مظاہروں پر عوام کی فکر سے امریکہ سمیت طاغوتی قوتوں کا منافقانہ کردار بے نقاب ہوچکا ہے، بدل دو نظام کو ایک نعرہ نہیں بلکہ تحریک کا نام ہے، نظام و قیادت کی تبدیلی سے ہی ملک و قوم کی تقدیر کو بدلا جاسکتا ہے جس کے لیے جماعت اسلامی روز اول سے جدوجہد کر ہی ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے قباء آڈیٹوریم میں نظم صوبہ کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی گذشتہ 17 سال سے تسلسل کے ساتھ سندھ میں حکمرانی کر رہی ہے مگر وہ عوام کو ڈاکو راج سے نجات سمیت صحت، تعلیم، صاف پانی اور امن جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے، سندھ میں گیس بجلی پٹرول کوئلہ کی دولت کے باوجود غربت و فلاس و محرومیوں کے ڈیرے کیوں ہیں؟ مرکزی رہنما لیاقت بلوچ نے میڈیا سیل سندھ کے دورے پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو مثبت سرگرمی کی ضرورت ہے، قومی مکالمے کی طرف اہم قدم اٹھایا گیا، شکوک و شبہات میں کوئی ایک دوسرے کی بات سننے کو تیار نہیں، سیاسی استحکام ملک کی ضرورت ہے، سیاسی رہنماؤں، خواتین کی رہائی ہونی چاہیئے، سزاؤں سے کشیدگی بڑھ رہی ہے، درجہ حرارت کو کم کرنا ضروری ہے، الیکشن کمیشن آزاد ہونا چاہیئے، اس کا مینڈیٹ تسلیم کیا جانا چاہیئے، اسی سے پائیدار جمہوریت کا راستہ نکلے گا، سیاست کو بند گلی سے نکالنے کے لیے ترجیحی اقدامات کیے جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سے نکالنے کے لیے جماعت اسلامی
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔