20 سال کے آئینی اصلاح کو الیکشن کمیشن آف انڈیا نظرانداز کررہا ہے، ممتا بنرجی
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ کا دعویٰ ہے کہ 2002ء کی ووٹر لسٹ کو ڈیجیٹل بنانے کیلئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کیا گیا، جس سے سنگین غلطیاں ہوئی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی ریاست مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) معاملہ پر لگاتار الیکشن کمیشن کو ہدف تنقید بنا رہی ہیں۔ ایک بار پھر انہوں نے الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے ہی 20 سال کے آئینی اصلاح کو نظرانداز کر رہا ہے، جس سے ووٹرس کو اپنی شناخت دوبارہ ثابت کرنے کے لئے مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ اس تعلق سے ممتا بنرجی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے نام 12 جنوری کو ایک خط لکھا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ اس خط سے قبل بھی وزیراعلٰی نے چیف الیکشن کمشنر کو 4 خطوط لکھے تھے، یعنی اب انہوں نے پانچویں چٹھی لکھ کر اپنے اعتراضات سامنے رکھے ہے۔ تازہ خط میں انہوں نے ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی کے عمل میں ہو رہی غلطیوں پر فکر کا اظہار کیا ہے۔
ممتا بنرجی کا دعویٰ ہے کہ 2002ء کی ووٹر لسٹ کو ڈیجیٹل بنانے کے لئے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کیا گیا، جس سے سنگین غلطیاں ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان تکنیکی خامیوں کی وجہ سے اہل ووٹرس کو غلط طریقے سے "خامی" والے زمرہ میں ڈال دیا گیا ہے، اس سے عام لوگوں کو شدید پریشانی ہو رہی ہے۔ خط میں وزیراعلٰی نے الیکشن کمیشن پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنے ہی پرانے طریقۂ کار کو نظرانداز کر رہا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ گزشتہ 2 دہائیوں میں جو اصلاح ہوئے تھے، انہیں درکنار کر ووٹرس کو پھر سے اپنی شناخت ثابت کرنے کے لئے مجبور کیا جا رہا ہے۔
مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ نے اس عمل کو من مانی اور آئین کے جذبات کے خلاف قرار دیا ہے۔ ممتا بنرجی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایس آئی آر کے دوران جمع کیے گئے دستاویزات کی کوئی رسید نہیں دی جا رہی ہے۔ انہوں نے سماعت کے عمل کو بھی پوری طرح سے مشینی اور غیر حساس بتایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ طریقۂ کار انسانی احساسات سے خالی ہے اور جمہوریت کی بنیاد کر کمزور کر رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن ممتا بنرجی ووٹر لسٹ انہوں نے رہا ہے
پڑھیں:
شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شازیہ مری نے گلگت بلتستان کے الیکشن میں وفاقی حکومت پر اثر و رسوخ اور سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام لگادیا۔
کراچی سے جاری بیان میں شازیہ مری نے کہا کہ گلگت بلتستان میں وفاقی وزراء کی انتخابی مہم میں موجودگی اور سرکاری مشینری کا استعمال تشویشناک ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا گو ہوں کہ جنگ کے خاتمے کےلیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل میں مداخلت شفافیت اور منصفانہ انتخابات پر سوالیہ نشان ہے، الیکشن کےلیے لیول پلینگ فیلڈ ناگزیز ہے۔
پی پی پی رہنما نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کے فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹونے عوام کو یاد دلایا کہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی 9 نشستیں چھینی گئی تھیں، پی پی چیئرمین نے عوام سے کہا تھا کہ اپنے ووٹ اور فارم 45 کی حفاظت کریں۔
شازیہ مری نے یہ بھی کہا کہ درست فارم 45 کی موجودگی میں کسی کو عوامی مینڈیٹ چرانے کا موقع نہیں مل سکتا، فارم 45 انتخابی نتائج کی بنیاد ہے، اسی کے بعد فارم 47 جاری کیا جاتا ہے۔