تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران جنگ اور مذاکرات دونوں کے لیے تیار ہے، اور ملک کی موجودہ صورتحال اب مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ ہفتے کے آخر میں ملک میں تشدد میں اضافہ ہوا، جہاں دہشت گرد عناصر نے مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پرامن مظاہرے بعد ازاں پرتشدد شکل اختیار کر گئے۔

عباس عراقچی کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران احتجاج کے دوران تقریباً 350 مساجد کو آگ لگائی گئی، تاہم ایرانی سکیورٹی فورسز نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ مظاہرین کے مطالبات جائز تھے اور حکومت انہیں سن بھی رہی تھی۔

مزید پڑھیں

ایران کے خلاف بڑا فیصلہ قریب؟ صدر ٹرمپ نے فوجی آپشن کا عندیہ دے دیا

ایران کا امریکا اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت میں مرنے والوں کی یاد میں تین روزہ سوگ کا اعلان

اگر ملک پر حملہ ہوا تو جواب میں اسرائیلی اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے، ایران

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مداخلت کے بیانات کے بعد احتجاج پرتشدد ہو گئے، جس کا مقصد بیرونی مداخلت کا جواز پیدا کرنا تھا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی ممکنہ صورتحال کے لیے تیار ہے، چاہے وہ جنگ ہو یا مذاکرات۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے، تاہم ساتھ ہی انہوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے آپشنز پر غور کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایرانی وزیر خارجہ کے لیے

پڑھیں:

آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو

امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔

مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔

وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال