ہم جنگ اور مذاکرات دونوں کے لیے تیار ہیں: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران جنگ اور مذاکرات دونوں کے لیے تیار ہے، اور ملک کی موجودہ صورتحال اب مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ ہفتے کے آخر میں ملک میں تشدد میں اضافہ ہوا، جہاں دہشت گرد عناصر نے مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پرامن مظاہرے بعد ازاں پرتشدد شکل اختیار کر گئے۔
عباس عراقچی کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران احتجاج کے دوران تقریباً 350 مساجد کو آگ لگائی گئی، تاہم ایرانی سکیورٹی فورسز نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ مظاہرین کے مطالبات جائز تھے اور حکومت انہیں سن بھی رہی تھی۔
مزید پڑھیںایران کے خلاف بڑا فیصلہ قریب؟ صدر ٹرمپ نے فوجی آپشن کا عندیہ دے دیا
ایران کا امریکا اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت میں مرنے والوں کی یاد میں تین روزہ سوگ کا اعلان
اگر ملک پر حملہ ہوا تو جواب میں اسرائیلی اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مداخلت کے بیانات کے بعد احتجاج پرتشدد ہو گئے، جس کا مقصد بیرونی مداخلت کا جواز پیدا کرنا تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی ممکنہ صورتحال کے لیے تیار ہے، چاہے وہ جنگ ہو یا مذاکرات۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا ہے، تاہم ساتھ ہی انہوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے آپشنز پر غور کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایرانی وزیر خارجہ کے لیے
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔