کراچی میں جماعت اسلامی کی وزیر بلدیات سے ملاقات، پانی اور صفائی کے مسائل حل کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان، نائب امیر کراچی و اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈوکیٹ اور رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق نے جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئر مینوں کے ہمراہ وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات سندھ سیکریٹریٹ کے دفتر میں ہوئی، جس دوران شہر میں واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کی نا اہلی اور ان اداروں کی جانب سے مسائل کے حل میں عدم دلچسپی کا ذکر کیا گیا۔
ملاقات کے دوران، ٹاؤن چیئر مینوں نے دونوں حکومتی اداروں کی جانب سے درپیش مسائل اور شکایات کا تفصیل سے ذکر کیا، اس موقع پر واٹر کارپوریشن کے سی ای او اسد اللہ خان، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے طارق نظامانی اور دیگر حکومتی نمائندے بھی موجود تھے۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ ماضی میں کی جانے والی متعدد ملاقاتوں اور حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود عوام کو پینے کے صاف پانی، صفائی ستھرائی، کچرا نہ اُٹھانے، کھلے مین ہولز اور گندگی کے ڈھیر جیسے مسائل کا سامنا ہے، سردی کے موسم میں بھی شہر کے نصف حصے میں پانی کی کمی ہے، بعض علاقوں میں مہینوں سے پانی نہیں آیا اور شہر کے سب سے بڑے مسئلے کا تعلق ابھی بھی پانی کی کمی سے ہے۔
منعم ظفر خان نے وزیر بلدیات سے مطالبہ کیا کہ ٹاؤن چیئر مینوں کی شکایات کا فوری طور پر ازالہ کیا جائے اور عوامی مشکلات کو حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، واٹر کارپوریشن اور سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے عملے کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا جائے تاکہ عوامی خدمات میں بہتری لائی جا سکے۔
وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئر مینوں کی شکایات کے حل کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے موجودہ حکومتی اداروں کے ذمہ داران کو ہدایات دیں کہ ٹاؤن اور یوسی چیئر مینوں کی تمام شکایات کو دور کیا جائے، مانیٹرنگ کا موثر نظام بنایا جائے اور پانی، سیوریج اور کچرا اُٹھانے کے نظام میں بہتری لائی جائے۔ وزیر بلدیات نے یہ بھی کہا کہ واٹر کارپوریشن میں کنڈی مین کی تعداد 1800 ہے جبکہ ضرورت تقریباً 3000 کی ہے، لہذا فوری طور پر کنڈی مینوں کی بھرتی کی جائے گی۔
ناصر حسین شاہ نے مزید کہا کہ مسائل کے حل کے لیے فالو اپ میٹنگز کی جائیں گی تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے اور عملی اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹاؤن چیئر مینوں جماعت اسلامی وزیر بلدیات مینوں کی
پڑھیں:
بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔
عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور
اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔
عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثرواضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیاعوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہواضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔
مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب
اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔
ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…
— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026
حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔
آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالاتحملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔
عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاریبعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔
تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔
ایک روز قبل مسافر بس پر حملہیہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔
حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ