ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ملتان یونین آف جرنلسٹ کے صدر انجم پتافی نے کہا ہے کہ ملتان یونین آف جرنلسٹس صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت اور صلاحیتوں میں اضافے کے لیے آئندہ بھی ایسے اقدامات جاری رکھے گی۔  اسلام ٹائمز۔ ملتان یونین آف جرنلسٹس کے زیراہتمام پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے حوالے سے تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ کا اہتمام سول سوسائٹی اور نجی تنظیم کے تعاون سے کیا گیا، جس کا مقصد صحافیوں کو حقِ معلومات کے قانون سے آگاہ کرنا اور شفافیت و احتساب کے فروغ میں میڈیا کے کردار کو مزید موثر بنانا تھا، ورکشاپ میں ڈائریکٹر ڈی جی پی آر ملتان سجاد جہانیہ نے بھی خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے مختلف پہلوں پر تفصیلی بریفنگ دی اور آر ٹی آئی درخواستوں کے طریقہ کار، درپیش چیلنجز اور عملی مسائل پر روشنی ڈالی، تقریب کے انعقاد میں ملتان یونین آف جرنلسٹس کے صدر انجم خان بتافی کی بھرپور کوششیں نمایاں رہیں، جن کی قیادت اور مسلسل کوششوں کے باعث یہ تربیتی ورکشاپ ممکن ہو سکی۔

انہوں نے ایسے اقدامات کو صحافت اور شفافیت کے فروغ کے لیے انتہائی خوش آئند قرار دیا، ان کا کہنا ہے کہ ملتان یونین آف جرنلسٹس صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت اور صلاحیتوں میں اضافے کے لیے آئندہ بھی ایسے اقدامات جاری رکھے گی اس موقع پر جنرل سیکرٹری ملتان یونین آف جرنلسٹس قمر جہان نے کہا کہ پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ صحافیوں کو سرکاری امور تک رسائی فراہم کرنے کا ایک موثر قانونی ذریعہ ہے، اس کے درست استعمال سے شفافیت اور احتساب کو فروغ دیا جا سکتا ہے، شرکا نے ورکشاپ کو معلوماتی اور مفید قرار دیتے ہوئے ملتان یونین آف جرنلسٹس کی کوششوں کو سراہا۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ملتان یونین آف جرنلسٹس

پڑھیں:

پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع

توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا