اخبار کے مطابق، اس اسرائیلی بندرگاہ کی آمدنی جو پہلے سالانہ تقریباً 240 ملین شیکل ہوتی تھی، اب تقریباً صفر ہو گئی ہے، جبکہ حکومت کی طرف سے امداد صرف 15 ملین شیکل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ یمنی حملوں کی وجہ سے جنوبی اسرائیلی بندرگارہ اپنی تاریخ کے شدید ترین بحران سے گزر رہا ہے، یہ انکشاف صیہونی میڈیا نے کیا ہے۔ اسرائیلی اخبار "یدیعوت أحرونوت" نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی اسرائیل کا اسٹریٹجک بندرگاہ ایلات اپنی تاریخ کے شدید ترین بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ گزشتہ دو سال سے زیادہ عرصے سے بحیرہ احمر کی طرف جانے والے بحری راستوں میں بار بار نقصان، جہازوں پر حملے، اور جیو پولیٹیکل انتشار کی وجہ سے بندرگاہ کی نقل و حرکت تقریباً مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہے۔ یدیعوت أحرونوت نے اس تناظر میں کہا ہے کہ "مزدور ہر صبح خالی گھاٹوں پر آتے ہیں، اپنے فرائض ادا کرنے کے لیے تیار، لیکن جہاز نہیں آتے"۔ اخبار کے مطابق، اس اسرائیلی بندرگاہ کی آمدنی جو پہلے سالانہ تقریباً 240 ملین شیکل ہوتی تھی، اب تقریباً صفر ہو گئی ہے، جبکہ حکومت کی طرف سے امداد صرف 15 ملین شیکل ہے۔اسرائیلی اخبار نے مزید نشاندہی کی ہے کہ نومبر 2023ء میں صنعاء (یمن) کی طرف سے ایلات کی طرف جانے والے ایک جہاز پر قبضہ کرنے کے بعد سے بندرگاہ کی سرگرمیاں مکمل طور پر رک گئی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بندرگاہ کی ملین شیکل کی طرف

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان