گرین لینڈ کی حکومت نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ آرکٹک جزیرے پر امریکی قبضہ کسی بھی صورت میں قبول نہیں کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ’ٹرمپ نے گرین لینڈ پر ممکنہ فوجی حملے کی منصوبہ بندی کا حکم دے دیا؟‘

یہ بیان پیر کو اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا گرین لینڈ کو کسی نہ کسی طریقے سے اپنے کنٹرول میں لے گا۔

ٹرمپ اس سے قبل بھی بارہا گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں لینے کی بات کر چکے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ ڈنمارک کے خودمختار علاقے گرین لینڈ کی اسٹریٹجک اہمیت امریکی قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔

ان کے مطابق مستقبل میں روس یا چین اس معدنیات سے مالا مال خطے پر قبضہ کر سکتے ہیں جسے روکنے کے لیے امریکا کو گرین لینڈ کا مالک ہونا چاہیے۔

گرین لینڈ کی حکومت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا ایک بار پھر گرین لینڈ پر قبضے کی خواہش کا اظہار کر رہا ہے اور یہ ایسی بات ہے جسے گرین لینڈ کی حکومتی اتحادی جماعتیں کسی بھی صورت میں قبول نہیں کر سکتیں۔

اتوار کے روز ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا نے گرین لینڈ پر قبضہ نہ کیا تو روس یا چین کر لیں گے اور میں ایسا ہونے نہیں دوں گا۔

مزید پڑھیے: گرین لینڈ کے مستقبل کے حوالے سے ڈنمارک فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے، ڈینش وزیراعظم فریڈرکسن

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ڈنمارک کے خودمختار جزیرے کے ساتھ معاہدے کے لیے تیار ہیں لیکن ایک نہ ایک طریقے سے گرین لینڈ امریکا کے پاس ہو گا۔

گزشتہ ہفتے فرانس، جرمنی، اٹلی، پولینڈ، اسپین اور برطانیہ نے ڈنمارک کے ساتھ مشترکہ بیان جاری کر کے ٹرمپ کے بیانات کے خلاف کوپن ہیگن اور گرین لینڈ کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

گرین لینڈ کی حکومت نے کہا کہ نیٹو کے 6 رکن ممالک کے اس مثبت بیان کے بعد گرین لینڈ کے دفاع کو نیٹو کے دائرہ کار میں مضبوط بنانے کی کوششیں تیز کی جائیں گی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ گرین لینڈ ہمیشہ مغربی دفاعی اتحاد کا حصہ رہے گا۔

حکومت نے واضح کیا کہ تمام نیٹو ممالک، بشمول امریکا، گرین لینڈ کے دفاع میں مشترکہ مفاد رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود امریکی قبضہ ناقابل قبول ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ڈنمارک کی مشترکہ ریاست کا حصہ ہونے کے ناطے گرین لینڈ نیٹو کا رکن ہے اس لیے اس کا دفاع نیٹو کے ذریعے ہی ہونا چاہیے۔

ادھر یورپی یونین کے کمشنر برائے دفاع و خلاء اینڈریئس کوبیلیئس نے کہا کہ اگر امریکا نے فوجی طاقت کے ذریعے گرین لینڈ پر قبضہ کیا تو یہ نیٹو کے خاتمے کے مترادف ہو گا۔

مزید پڑھیں: گرین لینڈ پر امریکی دعوے پر ڈنمارک کی پھر سخت وارننگ اور اٹلی کی روس سے بات چیت کی اپیل

اگرچہ ڈنمارک صدیوں سے گرین لینڈ پر حکمرانی کرتا رہا ہے لیکن سنہ 1979 کے بعد سے یہ علاقہ بتدریج آزادی کی جانب بڑھ رہا ہے جو جزیرے کی پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کا مشترکہ ہدف ہے۔

گرین لینڈ کے وزیر اعظم جینس فریڈرک نیلسن نے لنکڈ اِن پر لکھا کہ ہم ایک جمہوری معاشرہ ہیں جو اپنے فیصلے خود کرتا ہے اور ہمارے تمام اقدامات بین الاقوامی قانون کے مطابق ہوتے ہیں۔

ٹرمپ نے پہلی بار سنہ 2019 میں اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران گرین لینڈ پر امریکی قبضے کا خیال پیش کیا تھا جس کی واشنگٹن حتیٰ کہ ان کی اپنی جماعت کے اندر سے بھی مخالفت کی گئی تھی۔

ڈنمارک اور دیگر یورپی اتحادیوں نے اس اسٹریٹجک جزیرے سے متعلق ٹرمپ کی دھمکیوں پر شدید تشویش اور حیرت کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد سے گرین لینڈ میں ایک امریکی فوجی اڈہ بھی موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیے: اگر امریکا گرین لینڈ پر قبضہ نہیں کرے گا تو چین اور روس کرلیں گے جو قابل قبول نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

سنہ1953  تک ڈنمارک کی کالونی رہنے والا گرین لینڈ 26 سال بعد داخلی خودمختاری حاصل کرنے میں کامیاب ہوا تھا اور مستقبل میں ڈنمارک سے تعلقات مزید کم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ عوامی سرویز کے مطابق گرین لینڈ کے عوام امریکی قبضے کے سخت مخالف ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکا کی گرین لینڈ پر نظر گرین لینڈ گرین لینڈ کا دوٹوک جواب.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا امریکا کی گرین لینڈ پر نظر گرین لینڈ گرین لینڈ کا دوٹوک جواب گرین لینڈ کی حکومت گرین لینڈ پر سے گرین لینڈ گرین لینڈ کے حکومت نے نیٹو کے نہیں کر رہا ہے کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔

https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247

قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان