امریکا میں غیرملکیوں کے خلاف کارروائیاں:ایک لاکھ ویزے منسوخ،8ہزار طلبا بھی شامل
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکا میں8ہزار طلبااور ڈھائی ہزار خصوصی کام کے اجازت ناموں سمیت ایک لاکھ ویزے منسوخ کردیئے گئے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق رواں سال اب تک 100,000 سے زائد ویزے منسوخ کیے جاچکے ہیں، جن میں تقریباً 8 ہزار طلبہ ویزے اور 2 ہزار 500 خصوصی کام کے اجازت نامے شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ایسے غیر ملکی شہریوں کے خلاف کی جا رہی ہیں جن کے خلاف مجرمانہ ریکارڈ یا قانونی خلاف ورزیوں کے شواہد موجود ہیں۔
محکمہ خارجہ کے پیر کوجاری کئے گئے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر بیان میں کہا کہ امریکا کو محفوظ رکھنے کے لیے ملک بدری (ڈی پورٹیشن) اور ویزا منسوخی کی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
میڈیا ذرائع کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں امیگریشن اور ویزا قوانین میں سختی کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جہاں اب ویزا ہولڈرز کے امریکا میں داخلے کے بعد بھی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ گرفتاری، سزا یا دیگر قانونی معاملات کی نشاندہی کی جاسکے۔
منسوخ کیے گئے ویزوں کا تعلق مختلف کیٹیگریز سے ہے، جن میں سیاحتی، تعلیمی، ہنرمند ورک ویزے اور دیگر غیر ملکی زائرین شامل ہیں، بھارت جو امریکا کے ویزا ہولڈرز میں سب سے بڑی تعداد رکھتا ہے، اس پالیسی تبدیلی سے براہِ راست متاثر ہوا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔