آسٹریلیا نے بھارت سمیت چار ممالک کو اسٹوڈنٹ ویزا کے لیے ’ہائی رسک‘ کیٹیگری میں ڈال دیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
سڈنی: آسٹریلیا نے بھارتی طلبہ کے لیے اسٹوڈنٹ ویزا کے قوانین مزید سخت کرتے ہوئے بھارت کو نیپال، بنگلہ دیش اور بھوٹان کے ساتھ ’’سب سے زیادہ خطرے‘‘ (Highest Risk) کیٹیگری میں شامل کر دیا ہے۔
آسٹریلوی اور بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ معمول کے شیڈول سے ہٹ کر کیا گیا، جس کی وجہ حکام نے ویزا سسٹم میں سامنے آنے والے ’’نئے دیانت داری کے خدشات‘‘ قرار دیے ہیں۔
بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اگرچہ آسٹریلوی حکام نے بھارت کو اس کیٹیگری میں شامل کرنے کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی، تاہم رپورٹس میں جعلی ڈگریوں اور جعلی تعلیمی دستاویزات کے کئی واقعات سامنے آنے کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔
مزید پڑھیںامریکی ٹیرف اور تجارتی معاہدے کی ناکامی، مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوالات
عالمی تبدیلی کے تناظر میں مودی کی ناکام خارجہ پالیسی کڑی تنقید کا شکار
میڈیا کے مطابق اس وقت آسٹریلیا میں موجود تقریباً 6 لاکھ 50 ہزار غیر ملکی طلبہ میں سے لگ بھگ ایک لاکھ 40 ہزار کا تعلق صرف بھارت سے ہے، جبکہ چاروں ممالک مجموعی طور پر 2025 میں داخلہ لینے والے طلبہ کا تقریباً ایک تہائی حصہ بنتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائی رسک کیٹیگری میں شامل ہونے کے بعد طلبہ کو مالی وسائل، انگریزی زبان کی اہلیت اور تعلیم کے حقیقی مقصد سے متعلق زیادہ سخت دستاویزات فراہم کرنا ہوں گی، جس سے ویزا پراسیسنگ سست اور مہنگی ہو سکتی ہے۔
آسٹریلوی تعلیمی حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اچانک تبدیلی سے تعلیمی اداروں اور طلبہ دونوں میں بے یقینی پیدا ہو رہی ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ حقیقی اور سنجیدہ طلبہ کے لیے آسٹریلیا میں تعلیم کے دروازے بدستور کھلے رہیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کیٹیگری میں
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ