ورلڈ کپ و آسٹریلیا کیخلاف سیریز: پاکستان کے ممکنہ کھلاڑیوں کے نام سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور آسٹریلیا کے ہوم خلاف سیریز کے لیے پاکستان اسکواڈ کے لیے حتمی مشاورت رواں ہفتے ہو گی۔
ذرائع کے مطابق ہیڈ کوچ مائیک ہیسن دورۂ سری لنکا کے اختتام پر لاہور پہنچ رہے ہیں۔
قومی ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کے اراکین سری لنکا میں سیریز کھیلنے کے بعد آج وطن واپس پہنچ رہے ہیں۔ ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور کپتان سلمان علی آغا کی سلیکٹرز سے حتمی مشاورت ہو گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مشاورت مکمل ہونے پر چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی منظوری سے اسکواڈ کا اعلان کر دیا جائے گا، پی سی بی نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے ابتدائی نام آئی سی سی کو بھجوا رکھے ہیں۔ 31 جنوری قبل پی سی بی آئی سی سی کی اجازت کے بغیر ناموں میں ردو بدل کر سکتا ہے۔
پاکستان کے ممکنہ کھلاڑی
ذرائع کے مطابق ممکنہ کھلاڑیوں میں کپتان سلمان علی آغا، صاحبزادہ فرحان، صائم ایوب، فخر زمان، شاداب خان، بابر اعظم، فہیم اشرف، محمد نواز، عثمان خان اور ابرار احمد شامل ہیں۔
شاہین آفریدی، نسیم شاہ، حارث رؤف، سلمان مرزا اور خواجہ نافع کے نام بھی ممکنہ کھلاڑیوں میں شامل ہیں جبکہ عبدالصمد وسیم، جونیئر اور عثمان طارق ریزرو کھلاڑیوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔