اقتصادی پالیسی کے فریم ورک میں تیزی سے اصلاحات کا عمل جاری
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان کا موجودہ معاشی پالیسی فریم ورک اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک دیرینہ ساختی مسائل کو دور کرنے اور معاشی نمو کو بحال کرنے کی جانب قدم بڑھا رہا ہے۔
اس سلسلے میں اہم اقدامات میں شوگر سیکٹر کی مرحلہ وار ڈی ریگولیشن، زرعی برآمدات کے فروغ کے لیے جارحانہ حکمتِ عملی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول کی کوششیں شامل ہیں۔
شوگر سیکٹر طویل عرصے سے حکومتی مداخلت کا مرکز رہا ہے، جہاں گنے کی سرکاری قیمتیں، درآمد و برآمد پر پابندیاں، ذخائر کی نگرانی اور سبسڈیز معمول کا حصہ تھیں۔ گزشتہ دہائی میں پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق گنے کی پیداوار میں شدید اتار چڑھاؤ ہوا، جس سے چینی کی قلت، قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور قومی خزانے پر بوجھ پیدا ہوا۔ ڈی ریگولیشن کے ذریعے حکومت مارکیٹ کے اشاروں کو پیداوار اور قیمتوں کے تعین میں مؤثر بنانا چاہتی ہے اور برآمدات میں نرمی اور انتظامی کنٹرول میں کمی کی جارہی ہے۔
زرعی اصلاحات کا مقصد صرف شوگر سیکٹر تک محدود نہیں بلکہ ملکی جی ڈی پی کے تقریباً 20.
ماہرین کے مطابق اگر شوگر سیکٹر، زرعی برآمدات اور ایف ڈی آئی سے متعلق اصلاحات کو تسلسل، شفافیت اور ادارہ جاتی صلاحیت کے ساتھ نافذ کیا جائے تو یہ پاکستان کی برآمدی کارکردگی بہتر بنانے، بیرونی کھاتوں کو مستحکم کرنے اور پائیدار و جامع معاشی ترقی کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شوگر سیکٹر برا مدات
پڑھیں:
پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2 جون 2026 کے لیے مختلف عالمی کرنسیوں کے پاکستانی روپے کے مقابلے میں تازہ ریٹس جاری کر دیے ہیں۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی ڈالر اپنی سابقہ سطح کے قریب برقرار ہے جبکہ برطانوی پاؤنڈ، یورو اور خلیجی ممالک کی کرنسیاں بھی مستحکم رجحان دکھا رہی ہیں۔
امریکی ڈالر کی قیمت
اسٹیٹ بینک کے مطابق امریکی ڈالر کی انٹربینک شرح 278.46 روپے رہی۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق ڈالر کی قیمت گزشتہ کئی ماہ سے 278 سے 280 روپے کے درمیان گردش کر رہی ہے، جس سے زرمبادلہ مارکیٹ میں استحکام کا تاثر مل رہا ہے۔
سعودی ریال اور اماراتی درہم
سعودی ریال 74.19 روپے جبکہ متحدہ عرب امارات کا درہم 75.82 روپے پر برقرار رہا۔ خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے باعث ان کرنسیوں کی اہمیت پاکستانی معیشت کے لیے بہت زیادہ ہے۔
یورو اور برطانوی پاؤنڈ
یورو کی قیمت 324.40 روپے جبکہ برطانوی پاؤنڈ 375.18 روپے ریکارڈ کیا گیا۔ یورپ اور برطانیہ میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ اور وہاں مقیم پاکستانی خاندانوں کے لیے ان کرنسیوں کی قیمتیں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔
دیگر اہم کرنسیاں
کینیڈین ڈالر 201.19 روپے، آسٹریلوی ڈالر 200.03 روپے، قطری ریال 76.39 روپے، بحرینی دینار 738.61 روپے اور کویتی دینار 907.63 روپے کی سطح پر رہا، جو بدستور پاکستانی روپے کے مقابلے میں سب سے مہنگی کرنسیوں میں شامل ہے۔
آج کے نمایاں کرنسی ریٹس
امریکی ڈالر: 278.46 روپے
سعودی ریال: 74.19 روپے
اماراتی درہم: 75.82 روپے
قطری ریال: 76.39 روپے
یورو: 324.40 روپے
برطانوی پاؤنڈ: 375.18 روپے
کینیڈین ڈالر: 201.19 روپے
آسٹریلوی ڈالر: 200.03 روپے
کویتی دینار: 907.63 روپے
بحرینی دینار: 738.61 روپے
عمانی ریال: 723.26 روپے
ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں روپے کی قدر کا انحصار ترسیلات زر، زرمبادلہ ذخائر، درآمدی ادائیگیوں اور عالمی مالیاتی رجحانات پر ہوگا۔