کراچی میں فیکٹری سے نکلنے والی خواتین پر فائرنگ، 5 بچوں کی ماں جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
شہر قائد کے علاقے قائد آباد کی مانسہرہ کالونی میں مسلح شخص کی فائرنگ سے 35 سالہ 5 بچوں کی محنت کش ماں جاں بحق ہوگئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق قائد آباد کے علاقے مانسہرہ کالونی میں چھٹی کے بعد فیکٹری سے نکل کر گھر جانے والی دو خواتین پر مسلح شخص نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں اسما نامی خاتون جاں بحق ہوئی۔
فائرنگ کے نتیجے میں 22 سالہ شمائلہ زخمی ہوئی۔ واقعے کے بعد ریسکیو رضاکاروں نے جاں بحق اور زخمی خاتون کو جناح اسپتال منتقل کیا جبکہ کرائم سین یونٹ نے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کیے۔
پولیس نے اپتدائی تفتیش میں واقعے کو ذاتی دشمنی کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر جائے وقوعہ اور اطراف سے کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل نہیں ہوسکیں۔
پولیس کو عینی شاہدین نے بتایا کہ موٹرسائیکل پر سوار ایک شخص نے تعاقب کے بعد فائرنگ کی اور موقع سے فرار ہوگیا۔
پولیس حکام نے بتایا کہ واقعے کے وقت خاتون فیکٹری سے نکل کر گھر کی جانب جارہی تھی ، ملزم نے تعاقب کے بعد موقع دیکھتے ہی فائرنگ کردی، واقعے کی مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔
مزید پڑھیںکورنگی نمبر 4 میں بس کی ٹکر سے خاتون جاں بحق
کراچی، فائرنگ کے مختلف واقعات میں خاتون سمیت 6 افراد زخمی
کراچی، ڈیفنس میں فلیٹ سے زنجیروں میں قید خاتون بازیاب
پولیس کے مطابق زخمی ہونے والی خاتون ٹارگٹ نہیں تھی تاہم وہ ساتھ ہونے کی وجہ سے زد میں آئی ہے۔
’اسما میرے ساتھ کفالت میں ہاتھ بٹاتی تھی‘
مقتولہ اسما کے شوہر ہارون نے جناح اسپتال میں گفتگوکرتے ہوئے بتایا کہ میں پیشے کے اعتبار سے مکینک ہوں جبکہ میری اہلیہ اسما فیکٹری میں ملازمت کرتی تھی۔
ہارون نے کہا کہ ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں ، مجھے نہیں معلوم میری بیوی کو کس نے مارا، مجھے فون کال موصول ہوئی جس میں اسما پر فائرنگ کا بتایا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ہماری بیس برس قبل شادی ہوئی اور ہمارے پانچ بچے ہیں، ہم غریب لوگ ہیں، دونوں میاں بیوی مل کر کفالت کرتے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک