ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے یکساں بجلی ٹیرف نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے یکساں بجلی ٹیرف نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے وفاقی حکومت کی درخواست پر اس حوالے سے باضابطہ فیصلہ جاری کر دیا ہے۔نیپرا کے مطابق کے الیکٹرک اور تمام ڈسکوز کے لیے بجلی کا یکساں ٹیرف لاگو ہوگا، جبکہ ملک بھر کے صارفین کے لیے بنیادی ٹیرف برقرار رکھا جائے گا۔
فیصلے کے تحت گھریلو صارفین کے لیے بجلی کا زیادہ سے زیادہ ٹیرف 47 روپے 69 پیسے فی یونٹ برقرار رہے گا۔ ایک سے 100 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے ٹیرف 10 روپے 54 پیسے فی یونٹ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اسی طرح 101 سے 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے ٹیرف 13 روپے 01 پیسے فی یونٹ برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ ایک سے 100 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے نان پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین کے لیے ٹیرف 22 روپے 44 پیسے فی یونٹ برقرار رکھا گیا ہے۔
صومالیہ نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ تمام معاہدے منسوخ کر دیئے
ماہانہ 101 سے 200 یونٹ تک کا ٹیرف28.
پیپلز پارٹی کے احتجاج کے بعد حکومت نے اسپیشل اکنامک زون ترمیمی آرڈیننس واپس لے لیا
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پیسے فی یونٹ برقرار صارفین کے لیے برقرار رہے گا یونٹ کا ٹیرف یونٹ تک
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔