حکومت نے اسپیشل اکنامک زون ترمیمی آرڈیننس 2026 واپس لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
وزیراعظم شہباز شریف : فائل فوٹو
حکومت نے اسپیشل اکنامک زون ترمیمی آرڈیننس 2026 واپس لے لیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے آئین کے آرٹیکل 89/2 کے تحت آرڈیننس واپس لینے کی ایڈوائس دی۔
اس سے قبل قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی نے صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری کرنے پر احتجاج کیا۔
اس سے قبل قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی نے صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری کرنے پر احتجاج کیا۔
پیپلز پارٹی کے نوید قمر نے کہا کہ پہلی بار حکومت نے ایک ایسا آرڈیننس نافذ کیا جس کی صدر نے منظوری نہیں دی، اس قانون کی کوئی حیثیت نہیں ہے، ان حالات میں ہم اس ایوان کا حصہ نہیں بنتے، پی پی پی نے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔
وزیر قانون اعظم نذیرتارڑ نے کہا کہ حکومت کی طرف سے واضح کرتا ہوں جب تک صدر توثیق نہ کریں ہم اس کو نوٹیفائی نہیں کرتے۔
پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پیپلز پارٹی کو اسپیشل اکنامک زونز آرڈیننس پر اعتراض ہے، یہ آرڈیننس صدرمملکت کی منظوری کے بغیر جاری کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی کے بغیر
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔