(  سٹی 42) مولانا فضل الرحمن نے جے یو آئی پنجاب کے زیر اہتمام ڈیجیٹل میڈیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کا جو تقاضا ہے وہ سراسر شریعت کے منافی ہے۔ میڈیا منفی چیزوں کے پیچھے جاتا ہے، مثبت چیز مشہور نہیں ہوتی بلکہ چھپ جاتی ہے،ہمارے ادارے بھی اسی طرح لوگوں کے عیوب تلاش کرتے اور ان کی فائلیں بناتے ہیں۔جو کچھ ہم نے چھبیسویں ترمیم سے حاصل کیا تھا وہ ستائیسویں ترمیم میں ختم ہوگیا۔ ستائیسویں ترمیم میں حاصل شدہ اکثریت جبری اکثریت ہے۔ 

وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب کرلیا

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ قرآن کی تعلیم ہے کہ خبر بغیر تحقیق کے نہ پھیلایا کرو جبکہ میڈیا کو کردار کشی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے سوشل میڈیا ایک نئی دنیا ہے اور نئی دنیا کے اپنے تقاضے ہیں۔نوآبادیاتی نظام میں مغربی دنیا نے غلبہ حاصل کیا اٹلی، فرانس اور برطانیہ نے کالونیاں بنائیں جس کے نتیجے میں آزادی کے لیے قوموں کو لڑنا پڑا آزادی کی قیمت ہمیں معلوم ہے مسلح اور غیر مسلح لڑائیوں کے ذریعے آزادی حاصل کی گئی۔ سرمایہ داریت نے اپنا جابرانہ چہرہ جمہوریت کے پردے میں چھپایا اب جمہوریت دم توڑ رہی ہے سرمایہ داریت طاقت کے ساتھ آگے آرہی ہے، کمیونزم بھی دم توڑ رہی ہے اس کے پیچھے چھپا آمریت نمایاں ہورہا ہے، آج جمہوریت اور کمیونزم دم توڑ رہے ہیں جبکہ سرمایہ داریت اور آمریت آگے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر صدام حسین کویت میں داخل ہوتا ہے تو وہ مجرم ہے لیکن امریکا افغانستان ، عراق اور وینزویلا میں داخل پوتا ہے تو کوئی مسئلہ نہیں۔ روس کس طرح افغانستان میں داخل ہوا تھا اور اب یوکرائن میں داخل ہوا ہے۔ امکان ہے کہ چائنا بھی اب تائیوان میں داخل ہوجائے گا جس کی روایت اگرچہ موجود نہیں ہے۔

سہیل آفریدی نے جھوٹ اور منافقت کی انتہا کر دی؛ عطاء اللہ تارڑ

انہوں نے کہا کہ جو واردات دنیا میں ہورہی ہے وہ ہمارے ہاں بھی ہورہی ہے یہاں بھی طاقت چل رہی ہے۔ ایک برائے نام جمہوریت اور ڈھونگ انتخابات جس کے نتائج کچھ لوگ دفتروں میں بیٹھ کر تیار ہورہے ہیں۔ نہ وفاق کی حکومت منتخب ہے نہ پنجاب کی نہ سندھ کی نہ بلوچستان کی نہ کے پی کی۔ یہ سب ہم پر گزرا ہے اس لئے ہم آنکھوں دیکھا حال سنا رہے ہیں سنی سنائی بات نہیں سنا رہے، ہمارے اکابر نے دنیا کو سکھایا کہ بے ہنگم جمہوریت قابل قبول نہیں ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات موجود ہیں لیکن آج تک ایک بھی سفارش پر بحث نہیں ہوسکی۔ جو کچھ ہم نے چھبیسویں ترمیم سے حاصل کیا تھا وہ ستائیسویں ترمیم میں ختم ہوگیا۔ ستائیسویں ترمیم میں حاصل شدہ اکثریت جبری اکثریت ہے۔ ستائیسویں ترمیم نے بتا دیا کہ اب جنگ نظریات کی نہیں بلکہ اتھارٹی کی ہے اسٹیبلشمنٹ اپنی گرفت مضبوط کررہی ہے اب فیصلے پنڈی میں ہوں گے اور قانون سازی اسلام آباد میں ہوگی، سیاسی جماعتوں کو اب تک احساس نہیں ہے وہ پرانے نعرے لگا رہی ہیں۔ وہ لوگ اور تنظیمیں جو ایک دم وجود میں آتے ہیں اور جمہوریت کو کفر کہتے ہیں وہ بھی انہیں کے مشن پر چل رہے ہیں۔ اس بنیاد پر حدیثیں گھڑی جاتی ہیں اور مسلمانوں کو۔ کافر کہتے ہیں اور علماء کرام کو قتل کرتے ہیں، دنیا کا خاتمہ بھی اللہ کے نزدیک ایک مسلمان کے قتل سے ہلکا ہے۔ اسلام انسانوں کو حقوق دینا ہے اللہ کے قانون کے تابع ہوکر جو کوئی انسان سلب نہیں کرسکتا۔ انسانی حقوق کا وہ نظام جو اسلام کے تابع ہے وہ زیادہ مستحکم ہے۔ معدنی ذخائر اسلامی دنیا میں رکھے ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو دنیا کے خزانوں کی چابیاں دی گئی تھیں۔

امریکی صدر  ڈونلڈ ٹرمپ نے  خود کو وینزویلا کا قائم مقام صدر ڈکلیئر کردیا۔ 

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جب دنیا میں نظام ناکام ہوچکے ہیں اور جمہوریت دم توڑ رہی ہے اور کمیونزم دم توڑ رہا ہے۔ لہذا اب امت مسلمہ کو اب نئی پالیسی کے ساتھ سامنے آنا چاہئے۔ ہم نے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین معاہدے کی حوصلہ افزائی کی۔ اور ترکی اس میں شامل ہوا تو اس کے نتیجے میں یہ معاہدہ مزید مضبوط ہوگا۔ پاکستان کی پارلیمنٹ کا کوئی قانون دنیا میں نظیر کے طور پر پیش نہیں کیا جارہا اور پاکستان کی عدلیہ کا کوئی فیصلہ بطور نظیر پیش نہیں کیا جاتا۔ جب دونوں ادارے غیر معتبر ہیں تو ہم کہاں کھڑے ہیں۔ کرسی پر بیٹھے حکمران ڈمی بھی ہیں اور صرف گالیاں کھانے کے لئے بٹھائے گئے ہیں۔ کیا دنیا میں کہیں ہوتا ہے کہ کسی کو زندگی بھر کے لئے قانون سے مستثنی قرار دیا جائے۔ رسول ﷺ اللہ نے اپنے آپ کو مستثنی قرار نہیں دیا اور حضرت عمر نے بھی اپنے آپ کو مستثنی قرار نہیں دیا۔ ہمارا صدر مملکت زندگی بھر کیس بھگتتا رہا پیشیاں دیتا رہا اب اسے مستثنی قرار دیا جارہا ہے۔ سوچ صرف یہ ہے کہ ہماری گرفت مضبوط ہو ہماری مراعات چلتی رہیں اور ہمیں قانون سے مستثنی قرار دیا جائے۔ آج کوئی شخص پاکستان کا وفادار ہو اس کی وفاداری کی کوئی قیمت نہیں جب تک کہ ان کا وفادار نہ ہو۔

جوڈیشل کمیشن اجلاس، اندرونی کہانی سامنے آ گئی، فیصلے اکثریت سے ہوئے ؟

انہوں نے مزید کہا کہ دینی مدارس کے راست میں رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں مدارس مسلمہ تعلیمی ادارے ہیں 1866 میں وجود میں آیا ہے۔ دینی مدرسہ ضروری ہے اور اگر غیر ضروری ہے تو وہ تم ہو۔دینی مدرسہ جیسا رفاہی ادارہ دنیا میں نہیں ہے لیکن اس کے باوجود اس کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ آج امریکہ ہمیں قبول کرلے تو یہ کہیں گے کہ مدرسوں کے بارے بڑی اچھی رپورٹیں ہیں۔ مسلح گروہوں اور جنگجوؤں کے بارے ہمیں معلوم ہے کہ یہ کہاں تک اسلام کی بات کرتے ہیں۔مدرسے کے بارے مشرف، باجوہ، کیانی اور موجودہ فوجی قیادت سب کی پالیسی یکساں ہے۔

لاہور بھر میں درختوں کی کٹائی اور تراش خراش پر فوری پابندی عائد

صوبائی ڈیجیٹل میڈیا کنونشن سے جے یو آئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالغفور حیدری نے بھی خطاب کیا۔ مرکزی ڈیجیٹل میڈیا کوآرڈینیٹر انجینئر ضیاء الرحمن، حافظ نصیر احمد احرار، حافظ غضنفر عزیز، اسید خواجہ، حافظ محمد بلال، انجینئر بلال لطیف، عبدالجلیل جان، رانا تنویر ٹانڈلہ، ڈاکٹر ہلال دانش نے خطاب کیا۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمن جے یو آئی پنجاب ڈیجیٹل میڈیا کنونشن مولانا فضل الرحمن مولانا فضل الرحمن ڈیجیٹل میڈیا کنونشن

پڑھیں:

میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔

سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار

ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل