ستائیسویں ترمیم میں حاصل شدہ اکثریت جبری اکثریت ہے، مولانا فضل الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
( سٹی 42) مولانا فضل الرحمن نے جے یو آئی پنجاب کے زیر اہتمام ڈیجیٹل میڈیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کا جو تقاضا ہے وہ سراسر شریعت کے منافی ہے۔ میڈیا منفی چیزوں کے پیچھے جاتا ہے، مثبت چیز مشہور نہیں ہوتی بلکہ چھپ جاتی ہے،ہمارے ادارے بھی اسی طرح لوگوں کے عیوب تلاش کرتے اور ان کی فائلیں بناتے ہیں۔جو کچھ ہم نے چھبیسویں ترمیم سے حاصل کیا تھا وہ ستائیسویں ترمیم میں ختم ہوگیا۔ ستائیسویں ترمیم میں حاصل شدہ اکثریت جبری اکثریت ہے۔
وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب کرلیا
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ قرآن کی تعلیم ہے کہ خبر بغیر تحقیق کے نہ پھیلایا کرو جبکہ میڈیا کو کردار کشی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے سوشل میڈیا ایک نئی دنیا ہے اور نئی دنیا کے اپنے تقاضے ہیں۔نوآبادیاتی نظام میں مغربی دنیا نے غلبہ حاصل کیا اٹلی، فرانس اور برطانیہ نے کالونیاں بنائیں جس کے نتیجے میں آزادی کے لیے قوموں کو لڑنا پڑا آزادی کی قیمت ہمیں معلوم ہے مسلح اور غیر مسلح لڑائیوں کے ذریعے آزادی حاصل کی گئی۔ سرمایہ داریت نے اپنا جابرانہ چہرہ جمہوریت کے پردے میں چھپایا اب جمہوریت دم توڑ رہی ہے سرمایہ داریت طاقت کے ساتھ آگے آرہی ہے، کمیونزم بھی دم توڑ رہی ہے اس کے پیچھے چھپا آمریت نمایاں ہورہا ہے، آج جمہوریت اور کمیونزم دم توڑ رہے ہیں جبکہ سرمایہ داریت اور آمریت آگے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر صدام حسین کویت میں داخل ہوتا ہے تو وہ مجرم ہے لیکن امریکا افغانستان ، عراق اور وینزویلا میں داخل پوتا ہے تو کوئی مسئلہ نہیں۔ روس کس طرح افغانستان میں داخل ہوا تھا اور اب یوکرائن میں داخل ہوا ہے۔ امکان ہے کہ چائنا بھی اب تائیوان میں داخل ہوجائے گا جس کی روایت اگرچہ موجود نہیں ہے۔
سہیل آفریدی نے جھوٹ اور منافقت کی انتہا کر دی؛ عطاء اللہ تارڑ
انہوں نے کہا کہ جو واردات دنیا میں ہورہی ہے وہ ہمارے ہاں بھی ہورہی ہے یہاں بھی طاقت چل رہی ہے۔ ایک برائے نام جمہوریت اور ڈھونگ انتخابات جس کے نتائج کچھ لوگ دفتروں میں بیٹھ کر تیار ہورہے ہیں۔ نہ وفاق کی حکومت منتخب ہے نہ پنجاب کی نہ سندھ کی نہ بلوچستان کی نہ کے پی کی۔ یہ سب ہم پر گزرا ہے اس لئے ہم آنکھوں دیکھا حال سنا رہے ہیں سنی سنائی بات نہیں سنا رہے، ہمارے اکابر نے دنیا کو سکھایا کہ بے ہنگم جمہوریت قابل قبول نہیں ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات موجود ہیں لیکن آج تک ایک بھی سفارش پر بحث نہیں ہوسکی۔ جو کچھ ہم نے چھبیسویں ترمیم سے حاصل کیا تھا وہ ستائیسویں ترمیم میں ختم ہوگیا۔ ستائیسویں ترمیم میں حاصل شدہ اکثریت جبری اکثریت ہے۔ ستائیسویں ترمیم نے بتا دیا کہ اب جنگ نظریات کی نہیں بلکہ اتھارٹی کی ہے اسٹیبلشمنٹ اپنی گرفت مضبوط کررہی ہے اب فیصلے پنڈی میں ہوں گے اور قانون سازی اسلام آباد میں ہوگی، سیاسی جماعتوں کو اب تک احساس نہیں ہے وہ پرانے نعرے لگا رہی ہیں۔ وہ لوگ اور تنظیمیں جو ایک دم وجود میں آتے ہیں اور جمہوریت کو کفر کہتے ہیں وہ بھی انہیں کے مشن پر چل رہے ہیں۔ اس بنیاد پر حدیثیں گھڑی جاتی ہیں اور مسلمانوں کو۔ کافر کہتے ہیں اور علماء کرام کو قتل کرتے ہیں، دنیا کا خاتمہ بھی اللہ کے نزدیک ایک مسلمان کے قتل سے ہلکا ہے۔ اسلام انسانوں کو حقوق دینا ہے اللہ کے قانون کے تابع ہوکر جو کوئی انسان سلب نہیں کرسکتا۔ انسانی حقوق کا وہ نظام جو اسلام کے تابع ہے وہ زیادہ مستحکم ہے۔ معدنی ذخائر اسلامی دنیا میں رکھے ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو دنیا کے خزانوں کی چابیاں دی گئی تھیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو وینزویلا کا قائم مقام صدر ڈکلیئر کردیا۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جب دنیا میں نظام ناکام ہوچکے ہیں اور جمہوریت دم توڑ رہی ہے اور کمیونزم دم توڑ رہا ہے۔ لہذا اب امت مسلمہ کو اب نئی پالیسی کے ساتھ سامنے آنا چاہئے۔ ہم نے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین معاہدے کی حوصلہ افزائی کی۔ اور ترکی اس میں شامل ہوا تو اس کے نتیجے میں یہ معاہدہ مزید مضبوط ہوگا۔ پاکستان کی پارلیمنٹ کا کوئی قانون دنیا میں نظیر کے طور پر پیش نہیں کیا جارہا اور پاکستان کی عدلیہ کا کوئی فیصلہ بطور نظیر پیش نہیں کیا جاتا۔ جب دونوں ادارے غیر معتبر ہیں تو ہم کہاں کھڑے ہیں۔ کرسی پر بیٹھے حکمران ڈمی بھی ہیں اور صرف گالیاں کھانے کے لئے بٹھائے گئے ہیں۔ کیا دنیا میں کہیں ہوتا ہے کہ کسی کو زندگی بھر کے لئے قانون سے مستثنی قرار دیا جائے۔ رسول ﷺ اللہ نے اپنے آپ کو مستثنی قرار نہیں دیا اور حضرت عمر نے بھی اپنے آپ کو مستثنی قرار نہیں دیا۔ ہمارا صدر مملکت زندگی بھر کیس بھگتتا رہا پیشیاں دیتا رہا اب اسے مستثنی قرار دیا جارہا ہے۔ سوچ صرف یہ ہے کہ ہماری گرفت مضبوط ہو ہماری مراعات چلتی رہیں اور ہمیں قانون سے مستثنی قرار دیا جائے۔ آج کوئی شخص پاکستان کا وفادار ہو اس کی وفاداری کی کوئی قیمت نہیں جب تک کہ ان کا وفادار نہ ہو۔
جوڈیشل کمیشن اجلاس، اندرونی کہانی سامنے آ گئی، فیصلے اکثریت سے ہوئے ؟
انہوں نے مزید کہا کہ دینی مدارس کے راست میں رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں مدارس مسلمہ تعلیمی ادارے ہیں 1866 میں وجود میں آیا ہے۔ دینی مدرسہ ضروری ہے اور اگر غیر ضروری ہے تو وہ تم ہو۔دینی مدرسہ جیسا رفاہی ادارہ دنیا میں نہیں ہے لیکن اس کے باوجود اس کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ آج امریکہ ہمیں قبول کرلے تو یہ کہیں گے کہ مدرسوں کے بارے بڑی اچھی رپورٹیں ہیں۔ مسلح گروہوں اور جنگجوؤں کے بارے ہمیں معلوم ہے کہ یہ کہاں تک اسلام کی بات کرتے ہیں۔مدرسے کے بارے مشرف، باجوہ، کیانی اور موجودہ فوجی قیادت سب کی پالیسی یکساں ہے۔
لاہور بھر میں درختوں کی کٹائی اور تراش خراش پر فوری پابندی عائد
صوبائی ڈیجیٹل میڈیا کنونشن سے جے یو آئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالغفور حیدری نے بھی خطاب کیا۔ مرکزی ڈیجیٹل میڈیا کوآرڈینیٹر انجینئر ضیاء الرحمن، حافظ نصیر احمد احرار، حافظ غضنفر عزیز، اسید خواجہ، حافظ محمد بلال، انجینئر بلال لطیف، عبدالجلیل جان، رانا تنویر ٹانڈلہ، ڈاکٹر ہلال دانش نے خطاب کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمن جے یو آئی پنجاب ڈیجیٹل میڈیا کنونشن مولانا فضل الرحمن مولانا فضل الرحمن ڈیجیٹل میڈیا کنونشن
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔