صومالیہ کا متحدہ عرب امارات کیساتھ تمام معاہدے ختم کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
صومالیہ نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ بندرگاہوں، سیکیورٹی اور دفاع سے متعلق تمام معاہدے منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صومالی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایسے شواہد کی بنیاد پر کیا گیا جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یو اے ای کے بعض اقدامات صومالیہ کی خودمختاری، قومی وحدت اور سیاسی آزادی کے لیے نقصان دہ ہیں۔
اس بات کا اعلان صومالیہ کی کونسل آف منسٹرز کے اجلاس کے بعد وزیر دفاع احمد معلم فقی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کیا۔
انھوں نے بتایا کہ حکومت کے پاس قابلِ اعتماد رپورٹس اور شواہد موجود ہیں کہ متحدہ عرب امارات نے صومالیہ کی ریاستی خودمختاری اور اتحاد کو کمزور کرتے ہیں۔
صدارتی محل سے جاری تصاویر کے مطابق صدر حسن شیخ محمود نے اس معاملے پر پارلیمنٹ کے ہنگامی مشترکہ اجلاس سے بھی خطاب کیا۔
تاحال متحدہ عرب امارات کی جانب سے صومالیہ کے اس فیصلے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
صومالیہ نے یہ قدم کیوں اٹھایا؟
تجزیہ کاروں کے مطابق صومالیہ کے اس سخت اقدام کی بنیادی وجہ خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی اور سیاسی کشیدگی ہے۔
صومالی لینڈ جو 1991 میں صومالیہ سے علیحدگی کا اعلان کر چکا ہے۔ خود کو ایک آزاد ریاست قرار دیتا ہے مگر اسے عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا۔
صومالیہ کا مؤقف ہے کہ یہ خطہ اس کی خودمختاری کا حصہ ہے لیکن اسرائیل نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرلیا۔
آزاد تجزیہ کار عبدالنور داہر کے مطابق صومالی عوام اور حکومت میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ یو اے ای نے اسرائیل کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے فیصلے میں پس پردہ کردار ادا کیا۔
یو اے ای کا کردار اور صومالی لینڈ
گزشتہ ایک دہائی کے دوران صومالی لینڈ یو اے ای کی تجارتی اور سیکیورٹی سرمایہ کاری کا اہم مرکز بن چکا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی کمپنی ڈی پی ورلڈ کے پاس بربرا بندرگاہ کا 30 سالہ کنسیشن ہے جو بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے قریب ایک اسٹریٹجک مقام پر واقع ہے۔
موغادیشو حکومت کا کہنا ہے کہ صومالی لینڈ اور دیگر خودمختار یا نیم خودمختار خطوں میں یو اے ای کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں وفاقی حکومت کے اختیار کو چیلنج کر رہی ہیں۔
اس اعلان کا یمن کے حالات سے تعلق
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب حال ہی میں اطلاعات سامنے آئیں کہ یمن کے جنوبی علیحدگی پسند گروہ، سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کے سربراہ عیدروس الزبیدی نے 8 جنوری کو صومالی لینڈ کے بربرا بندرگاہ کے ذریعے یو اے ای کا سفر کیا۔
بعد ازاں صومالیہ کے امیگریشن حکام نے صومالی فضائی حدود اور ہوائی اڈوں کے غیر مجاز استعمال کی تحقیقات کا اعلان بھی کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: متحدہ عرب امارات صومالی لینڈ کا اعلان کے مطابق یو اے ای
پڑھیں:
تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائلوزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔