صومالیہ نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ بندرگاہوں، سیکیورٹی اور دفاع سے متعلق تمام معاہدے منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صومالی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایسے شواہد کی بنیاد پر کیا گیا جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یو اے ای کے بعض اقدامات صومالیہ کی خودمختاری، قومی وحدت اور سیاسی آزادی کے لیے نقصان دہ ہیں۔

اس بات کا اعلان صومالیہ کی کونسل آف منسٹرز کے اجلاس کے بعد وزیر دفاع احمد معلم فقی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کیا۔

انھوں نے بتایا کہ حکومت کے پاس قابلِ اعتماد رپورٹس اور شواہد موجود ہیں کہ متحدہ عرب امارات نے صومالیہ کی ریاستی خودمختاری اور اتحاد کو کمزور کرتے ہیں۔

صدارتی محل سے جاری تصاویر کے مطابق صدر حسن شیخ محمود نے اس معاملے پر پارلیمنٹ کے ہنگامی مشترکہ اجلاس سے بھی خطاب کیا۔

تاحال متحدہ عرب امارات کی جانب سے صومالیہ کے اس فیصلے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

صومالیہ نے یہ قدم کیوں اٹھایا؟

تجزیہ کاروں کے مطابق صومالیہ کے اس سخت اقدام کی بنیادی وجہ خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی اور سیاسی کشیدگی ہے۔

صومالی لینڈ جو 1991 میں صومالیہ سے علیحدگی کا اعلان کر چکا ہے۔ خود کو ایک آزاد ریاست قرار دیتا ہے مگر اسے عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا۔

صومالیہ کا مؤقف ہے کہ یہ خطہ اس کی خودمختاری کا حصہ ہے لیکن اسرائیل نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرلیا۔ 

آزاد تجزیہ کار عبدالنور داہر کے مطابق صومالی عوام اور حکومت میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ یو اے ای نے اسرائیل کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے فیصلے میں پس پردہ کردار ادا کیا۔

یو اے ای کا کردار اور صومالی لینڈ

گزشتہ ایک دہائی کے دوران صومالی لینڈ یو اے ای کی تجارتی اور سیکیورٹی سرمایہ کاری کا اہم مرکز بن چکا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی کمپنی ڈی پی ورلڈ کے پاس بربرا بندرگاہ کا 30 سالہ کنسیشن ہے جو بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے قریب ایک اسٹریٹجک مقام پر واقع ہے۔

موغادیشو حکومت کا کہنا ہے کہ صومالی لینڈ اور دیگر خودمختار یا نیم خودمختار خطوں میں یو اے ای کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں وفاقی حکومت کے اختیار کو چیلنج کر رہی ہیں۔

اس اعلان کا یمن کے حالات سے تعلق 

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب حال ہی میں اطلاعات سامنے آئیں کہ یمن کے جنوبی علیحدگی پسند گروہ، سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کے سربراہ عیدروس الزبیدی نے 8 جنوری کو صومالی لینڈ کے بربرا بندرگاہ کے ذریعے یو اے ای کا سفر کیا۔

بعد ازاں صومالیہ کے امیگریشن حکام نے صومالی فضائی حدود اور ہوائی اڈوں کے غیر مجاز استعمال کی تحقیقات کا اعلان بھی کیا ہے۔

 .

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: متحدہ عرب امارات صومالی لینڈ کا اعلان کے مطابق یو اے ای

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش