پیپلزپارٹی کے احتجاج پر حکومت نے اسپیشل اکنامک زونز آرڈیننس واپس لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
حکومت نے پاکستان پیپلزپارٹی کے قومی اسمبلی میں احتجاج اور معاملہ اٹھانے کے بعد صدر مملکت کی منظوری کے بغیر جاری ہونے والے اسپیشل اکنامک زونز آرڈیننس واپس لینے کا فیصلہ کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق حکومت نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے اسپیشل اکنامک زونز (ترمیمی) آرڈیننس 2026 واپس لینے کی منظوری دے دی۔
آرٹیکل 89(2)(b) کے تحت صدرِ مملکت کو آرڈیننس واپس لینے کا مشورہ دے دیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسپیشل اکنامک زونز ترمیمی آرڈیننس واپس لینے کی سمری پر دستخط کر دیے۔
وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آج کل ای آفس ہے جس سے فائلز کی اپرول آن لائن ہوتی ہے، اس آرڈیننس کی بھی اپرول ہو گئی، اسٹاف ٹو اسٹاف اس کو منظور شدہ سمجھا۔
مزید پڑھیںپیپلزپارٹی کے احتجاج پر حکومت نے اسپیشل اکنامک زونز آرڈیننس واپس لے لیا
اعظم نزیر تارڑ نے کہا کہ دستخط شدہ فائلز موصول ہوئیں تو اس آرڈیننس پر دستخط نہیں تھے اور اس پر پرنٹنگ ہو چکی تھی، یہ غلطی ہوئی جس کی درستی کی گئی۔
وزیر قانون نے کہا کہ جو بل مشترکہ اجلاس سے صدر کے پاس جائے تو صدر دس روز اس کو رکھ سکتے ہیں، خیر سگالی کے تحت ان بلز کو بھی نوٹیفائی نہیں کیا گیا کیونکہ صدر نے منظوری نہیں دی۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور ن لیگ کا آپس میں اچھا تعلق ہے،اس تعلق کی وجہ سے اس آرڈیننس کو بھی واپس لیا گیا، آئندہ بھی معاملات کو افہام و تفہیم سے چلائیں گے۔
پیپلزپارٹی نے آرڈیننس جاری ہونے پر قومی اسمبلی اجلاس تو واک آؤٹ کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ آرڈیننس کو اب بل کی صورت میں پارلیمنٹ میں لایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسپیشل اکنامک زونز آرڈیننس واپس واپس لینے نے کہا کہ حکومت نے
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔