حکومت نے صدر کی منظوری کے بغیر اسلام آباد آرڈیننس جاری کیا، پیپلزپارٹی رہنما کی شدید تنقید
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
حکومت کی جانب سے صدر کی منظوری کے بغیر اسلام آباد بلدیاتی آرڈیننس جاری ہونے پر پیپلزپارٹی نے ن لیگ کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان پیپلزپارٹی نے صدر کے دستخطوں (منظوری) کے بغیرجاری ہونے نوٹیفیکشن کے خلاف ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
سید نوید قمر کی قیادت میں پی پی اراکین نے واک آؤٹ کیا۔ جس کے بعد کورم پورا نہ ہونے پرقومی اسمبلی اجلاس کی کارروائی 15منٹ کیلئے ملتوی کیا گیا۔
واک آؤٹ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے پی پی رہنما سید نوید قمر نے کہا کہ آج پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے کیونکہ حکومت نے صدرکے دستخطوں کے بغیرآرڈیننس جاری کردیا۔
انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں ایسا واقعہ کبھی نہیں نہیں آیا کہ صدر کی منظوری کے بغیر ہی آرڈیننس جاری کردیا جائے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیپلزپارٹی کے تحفظات کو سُن کر کہا کہ سوشل میڈیا پر آرڈیننس کے حوالے سے مختلف چیزیں چل رہی ہیں ہم چیک کرلیتے ہیں۔
اس سے قبل خبر سامنے آئی تھی کہ صدر مملکت نے اسلام آباد میں مقامی حکومت کے قیام سے متعلق اسلام لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کا صدارتی آرڈیننس جاری کردیا۔
مزید پڑھیںاسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات ایک بار پھر ملتوی، مقامی حکومت کے نظام میں بڑی تبدیلیاں؛ آرڈیننس جاری
وفاقی حکومت نے بلدیاتی الیکشن کے امیدواروں کو 85لاکھ کا نقصان پہنچادیا
سندھ حکومت نے بلدیاتی اداروں کی مانیٹرنگ شروع کردی
آرڈیننس کے تحت وفاقی دارالحکومت میں میٹروپولیٹن کارپوریشن کا نظام ختم کر کے ٹاؤن کارپوریشنز قائم کیے جائیں گے جبکہ اسلام آباد کو قومی اسمبلی کے تین حلقوں کی بنیاد پر تین ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کیا جائے گا۔
آرڈیننس کے مطابق ہر ٹاؤن کارپوریشن میں اتنی ہی یونین کونسلز ہوں گی جتنی وفاقی حکومت نوٹیفائی کرے گی، حکومت عوامی اعتراضات اور سفارشات سننے کے بعد ٹاؤن کارپوریشن اور یونین کونسلز کی حدود میں ترمیم کر سکے گی تاہم الیکشن شیڈول کے اعلان کے بعد کسی قسم کی حلقہ بندی میں تبدیلی نہیں کی جا سکے گی۔
آرڈیننس میں واضح کیا گیا ہے کہ مقامی حکومت سے مراد یونین کونسل اور ٹاؤن کارپوریشن ہو گی، جبکہ جہاں مقامی حکومت فعال نہیں ہو گی وہاں حکومت ایڈمنسٹریٹر تعینات کرے گی۔ سربراہ سے مراد ٹاؤن کارپوریشن کا مئیر یا یونین کونسل کا چیئرمین ہوگا۔
انتظامی ڈھانچے کے مطابق ہر ٹاؤن کارپوریشن میں ایک مئیر اور دو ڈپٹی مئیر ہوں گے، جبکہ یونین کونسل کے چیئرمین بطور جنرل ممبران ٹاؤن کارپوریشن کا حصہ ہوں گے۔ اس کے علاوہ ہر ٹاؤن کارپوریشن میں چار خواتین، ایک کسان یا ورکر، ایک تاجر یا بزنس مین، ایک نوجوان اور ایک غیر مسلم رکن شامل ہو گا۔
یونین کونسل کی سطح پر جنرل ممبران کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہو گا، جس کے لیے پوری یونین کونسل کو ملٹی ممبر وارڈ قرار دیا گیا ہے۔ ہر ووٹر صرف ایک جنرل ممبر امیدوار کو ووٹ دے سکے گا اور سب سے زیادہ ووٹ لینے والے نو امیدوار جنرل ممبران منتخب ہوں گے۔
کامیاب امیدوار تیس دن کے اندر کسی بھی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کر سکیں گے، جنرل ممبران یونین کونسل کی مخصوص نشستوں پر ارکان کا انتخاب شو آف ہینڈ کے ذریعے کریں گے، جبکہ جنرل اور مخصوص نشستوں کے ممبران مل کر اپنے اندر سے چیئرمین اور وائس چیئرمین کا انتخاب بھی شو آف ہینڈ کے ذریعے کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹاؤن کارپوریشن مقامی حکومت یونین کونسل رڈیننس جاری بلدیاتی ا حکومت نے ا رڈیننس کے بعد
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔