data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

قطر میں سابق بھارتی بحریہ کے افسر کی دوبارہ گرفتاری نے ایک بار پھر بھارتی فوج کے کردار، پیشہ ورانہ ساکھ اور مودی حکومت کی سفارتی حکمتِ عملی کو عالمی سطح پر کڑی تنقید کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے بعد خود بھارتی جریدے انڈین ایکسپریس نے بھی اس معاملے کی تصدیق کرتے ہوئے بھارتی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو شائع کیا، جس میں تسلیم کیا گیا کہ سابق بھارتی نیوی افسر کمانڈر پورنیندو تیواری قطر میں ایک بار پھر حراست میں ہیں۔

یہ معاملہ اگست 2022 میں اس وقت سامنے آیا تھا جب قطر نے بھارتی بحریہ کے 8 سابق افسران کو سنگین الزامات کے تحت حراست میں لیا۔ بعد ازاں اکتوبر 2023 میں قطری عدالت کی جانب سے ان بھارتی اہلکاروں کو سزائے موت سنائے جانے کے فیصلے نے بھارت میں شدید ہلچل مچا دی تھی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ان افسران پر جاسوسی جیسے حساس الزامات عائد کیے گئے تھے، جنہیں قطری حکام نے قومی سلامتی سے جوڑتے ہوئے انتہائی سنجیدگی سے لیا۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت کی مسلسل سفارتی کوششوں اور دباؤ کے باوجود فروری 2024 میں بھی پورنیندو تیواری کو بھارت کے حوالے نہیں کیا گیا، جس سے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی اور سفارتی اثرورسوخ پر سوالات مزید گہرے ہو گئے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک قانونی یا سفارتی کیس نہیں بلکہ بھارتی فوج کی مجموعی عسکری تربیت، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ معیار پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

ماہرین اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ گزشتہ برسوں میں بھارتی فوج کو بدعنوانی، رشوت خوری، اخلاقی جرائم اور جنسی استحصال جیسے سنگین الزامات کا سامنا رہا ہے، جن پر مؤثر احتساب نہ ہونے کے باعث ادارے کی ساکھ شدید متاثر ہوئی۔ اندرونی کرپشن اور نظریاتی انتہا پسندی نے بھارتی فوج کے ان دعوؤں کو کھوکھلا کر دیا ہے جو وہ خود کو ایک منظم اور پیشہ ور فورس کے طور پر پیش کرتے ہوئے کرتی رہی ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج میں سیفرونائزیشن اور بڑھتے ہوئے ہندوتوا نظریات نے ادارے کو پیشہ ورانہ اصولوں سے دور کر دیا ہے، جس کا نتیجہ بیرونِ ملک گرفتاریوں اور عالمی سطح پر شرمندگی کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بھارتی فوج

پڑھیں:

مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی

ویب ڈیسک : مستونگ میں ہونے والے قاتلانہ حملے میں سیشن جج مستونگ عبدالحکیم کاکڑ اور گن مین شہید ہو گئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری شدید زخمی ہوئے۔

حکومت بلوچستان نے مستونگ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم دے دیاہے۔ معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کا کہنا ہے کہ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کی شہادت انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

 معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق وکلاء اور ججز کو نشانہ بنانا ایک گہری سازش کا حصہ ہے،دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔

 وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مستونگ حملے میں زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کی اوران کی مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیاہے۔

 وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قانون کے محافظوں پر حملہ ناقابل برداشت ہے، ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا،حکومت عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہر قدم پر کھڑی ہے۔ 

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار