data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں میں ہلاکتوں اور امریکا کی ایران میں فوجی کارروائی کی دھمکی پر چین نے اپنا ردعمل دیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہ عالمی امن کے لیے عالمی قوانین کی پاسداری لازمی ہے۔ چین بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے اور تمام ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے احترام کو ناگزیر سمجھتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ چین کو امید ہے کہ ایران کی حکومت اور عوام موجودہ مشکل صورتحال پر قابو پالیں گے اور ملک میں استحکام اور نظم و ضبط برقرار رہے گا۔

چینی ترجمان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی تنازع کا حل فوجی طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ دو طرفہ مذاکرات اور سیاسی عمل کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔

یاد رہے کہ فلوریڈا سے واشنگٹن ڈی سی جاتے ہوئے صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ممکن ہے ایران پر مذاکرات سے پہلے ہی کارروائی کرنا پڑے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ ایران مذاکرات کرنا چاہتا ہے اور ملاقات کے انتظامات کیے جا رہے ہیں تاہم امریکا کے پاس انتہائی طاقتور آپشنز موجود ہیں جن میں فوجی کارروائی بھی شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران میں جاری مظاہروں میں شہریوں کی ہلاکتوں پر امریکا گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ امریکی فوج یہ معاملہ قریب سے مانیٹر کر رہی ہے اور ایرانی اپوزیشن رہنماؤں سے بھی رابطے میں ہیں۔

امریکی صدر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان سے رابطہ کریں گے تاکہ ایران میں انٹرنیٹ سروس کی بحالی میں مدد فراہم کی جا سکے۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ اس سلسلے میں ایلون مسک سے بھی بات کریں گے تاکہ ایرانی عوام تک معلومات کی رسائی ممکن بنائی جا سکے۔

صدر ٹرمپ کی دھمکیوں کے جواب میں ایران کے وزیرِ خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ اور مذاکرات دونوں کے لیے تیار ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران دباؤ یا دھمکیوں کے تحت کوئی فیصلہ نہیں کرے گا اور اپنے قومی مفادات کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔

ویب ڈیسک مرزا ندیم بیگ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایران میں کہ ایران

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟