کراچی؛ منگھوپیر میں معلم کے تشدد سے شدید زخمی کمسن لڑکا زندگی کی بازی ہار گیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
کراچی:
منگھوپیر کے علاقے عزیز بروہی گوٹھ کے مدرسے میں 30 نومبر کو معلم کے تشدد سے شدید زخمی کمسن لڑکا زندگی کی بازی ہار گیا۔
منگھوپیر پولیس نے بچے کو زخمی کرنے کا مقدمہ درج کر کے معلم کو گرفتار کیا تھا جو بعدازاں ضمانت پر رہا ہے ، کمسن بچے کی ہلاکت پر پولیس مقدمے میں قتل کی دفعہ سمیت دیگر دفعات کا اضافہ کر رہی ہے۔
اس حوالے سے ایس ایچ او منگھوپر خوشنواز نے بتایا کہ مذکورہ واقعہ گزشتہ سال 30 نومبر کو پیش آیا ہے جس میں مدرسے کے معلم قاری اللہ بچایو کے تشدد سے 6 سالہ حسن نامی بچہ زخمی ہوا تھا جس کے اہلخانہ کی جانب سے معلم کے خلاف مقدمہ درج کر کے پولیس نے اسے گرفتار کیا تھا تاہم بعدازاں ملزم نے ضمانت کرالی تھی، گزشتہ روز معلم کے تشدد سے زخمی کمسن حسن جناح اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا ۔
ایس ایچ او نے بتایا کہ بچے کو زخمی کرنے کے درج مقدمے میں اب قتل کی دفعہ 302 سمیت دیگر دفعات کو بھی شامل اور ملزم کو گرفتار کیا جائیگا۔
اس حوالے سے مقتول حسن کے والد حبیب الرحمٰن نے بتایا کہ ان کا بیٹا 6 سالہ حسن عزیز بروہی گوٹھ کے مدرسے میں پڑھتا تھا جہاں معلم نے بیٹے کو سر پر ڈنڈا مارا تو اس کے سر کی ہڈی کو نقصان پہنچا اور ہم اپنے بیٹے کو قریبی کلینک لے گئے اور ایکسرے سے پتہ چلا کہ بچے کے سر کی ہڈی کریک ہوگئی ہے جسے بعدازاں عباسی شہید اسپتال لیجایا گیا اور وہاں سے میرے بیٹے کو جناح اسپتال بچہ وارڈ منتقل کر دیا گیا۔
انھوں ںے بتایا کہ میرے بیٹے کو تشدد کا نشانہ بنانے والا معلم ضمانت پر ہے اور میرا مطالبہ ہے کہ ہمیں انصاف دلایا جائے ، میرا بیٹا علاج کے دوران چیخ مار کر اٹھ جاتا تھا ، بچے کی تدفین کے بعد مزید قانونی کارروائی عمل میں لائینگے۔
مقتول حسن کے ماموں نے بتایا کہ مدرسے کے معلم کا کہنا تھا کہ بچہ شرارت کر رہا تھا اس لیے مارا ، بچے تو شرارت کرتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ڈنڈا مار کر بچے کے سر کی ہڈی ہی توڑ دی جائے یہ کہاں کا انصاف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ معلم کو سخت سزا ملنا چاہے جس نے آج ہمارے بچے کو مارا کل کو کسی اور کے لخت جگر کے ساتھ ایسا افسوسناک واقعہ پیش نہ آئے، ہم معلم کے اس عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے بتایا کہ کے تشدد سے بیٹے کو معلم کے
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔