Express News:
2026-06-03@00:52:07 GMT

پی پی کی تحریک انصاف سے قربت یا مصلحت

اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT

تحریک انصاف اپنے وزیر اعلیٰ کے پی کے دورہ سندھ کو پیپلز پارٹی کی جمہوریت پسندی قرار دے رہی ہے اور پی پی کی سندھ حکومت کی طرف سے سہیل آفریدی کے سرکاری استقبال کی تعریف کر رہی ہے اور بانی کی ہمشیرہ نے پیپلز پارٹی پر پی ٹی آئی کی طرف سے الیکشن میں دھاندلی کرا کر سندھ میں کامیابی کا الزام واپس لیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت سمجھدار ہے جب کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے دھاندلی کی ہے۔

پی ٹی آئی اور اس کے رہنما یہ بھول گئے کہ پی پی کی اسی سندھ حکومت نے بلدیاتی انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں لینے والی جماعت اسلامی کا میئر پی ٹی آئی کے یوسی چیئرمین توڑ کر منتخب نہیں ہونے دیا تھا اور انھیں غیر حاضر کرا کر کراچی میں پہلی بار اپنا میئر منتخب کر لیا تھا، ورنہ جماعت اسلامی اپنا میئر اور پی ٹی آئی اپنا ڈپٹی میئر باآسانی منتخب کراسکتے تھے اور دونوں کے ارکان کونسل پیپلز پارٹی سے زیادہ تھے۔

اسی سازشی جمہوریت میں ناکامی کے بعد جماعت اسلامی پی پی کے میئر کو مسلط میئر قرار دیتی ہے اور پی ٹی آئی مسلسل خاموش ہے کیونکہ حکومت اور پیسہ طاقتور ہوتے ہیں۔ پیپلزپارٹی 2017 میں پی ٹی آئی سے مل کر بلوچستان میں (ن) لیگ کی حکومت بھی ختم کرا چکی ہے جب کہ 2006 میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان میثاق جمہوریت کے تحت ایک دوسرے کی حکومت برداشت کرنے کا معاہدہ ہوا تھا۔

کہتے ہیں کہ سیاست اور جمہوریت میں سب کچھ جائز ہے اور سیاستدان اپنا مفاد مدنظر رکھ کر فیصلے کرتے ہیں اورکبھی انھیں مصلحت کا شکار بھی ہونا پڑتا ہے، جس طرح موجودہ حکومت بنانے کے لیے معاملات طے ہوئے تھے اور پیپلز پارٹی نے آئینی اور مسلم لیگ (ن) نے حکومتی عہدے لینے کا معاہدہ کیا تھا جس میں دونوں پارٹیوں کی مجبوری بھی تھی کیونکہ پی ٹی آئی دونوں پارٹیوں کو فارم 47 کے ذریعے منتخب ہونے کا الزام لگاتی تھی کہ پی ٹی آئی نے 80 فی صد نشستیں جیت لی تھیں مگر اس کا مینڈیٹ چوری کرکے موجودہ حکومت بنائی گئی تھی جب کہ وفاق اور پنجاب میں اس کی حکومتیں بننے نہیں دی گئیں۔

پی ٹی آئی کے بانی 2011 سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو چور ڈاکو قرار دیتے آئے کہ انھوں نے ملک کو لوٹ کر بیرون ملک جائیدادیں بنائیں اور پیسہ منتقل کیا۔ بانی نے اپنے اس چور ڈاکو کے بیانیے کی بنیاد پر بالاتروں کو متاثر کرکے انھی کی مدد سے آر ٹی ایس بٹھا کر اکثریت نہ ہونے کے باوجود اقتدار حاصل کیا تھا اور اقتدار میں بھی وہ اپنے بیانیے پر قائم رہے مگر اپنے اقتدار میں بیرون ملک سے وہ چوری کی گئی رقم واپس لانے میں ناکام رہے جس کی واپسی کا وعدہ کرکے اقتدار میں آئے تھے اور ان کے قریبی ساتھی مراد سعید نے دعویٰ کیا تھا کہ ہم اقتدار میں آ کر چور ڈاکوؤں کی بیرون ملک چھپائی گئی دو سو ارب ڈالر کی رقم واپس لا کر ایک سو ارب ڈالر آئی ایم ایف کے منہ پر ماریں گے اور باقی ایک سو ارب ڈالر عوام اور ملک پر خرچ کریں گے۔

بانی اپنے اقتدار میں دونوں پارٹیوں کی قیادت کی مبینہ طور لوٹی گئی دولت واپس نہ لا سکے اور اب وہ خود اور ان کی اہلیہ توشہ خانہ سے چوری کا قیمتی سامان ہتھیانے، سعودی پرنس کی قیمتی گھڑی دبئی میں فروخت کرکے کروڑوں روپے حاصل کرنے کے الزام میں سزا یافتہ قرار پا چکے ہیں۔ بانی کے چور ڈاکو قرار دیے گئے ان کے مخالف سیاستدان اب اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں اور ان پر الزام لگانے والا بانی اپنی اہلیہ سمیت سزا بھگت رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی سینئر قیادت اپنا وسیع تر مفاد مدنظر رکھتی ہے اور مصلحت کو بھی ترجیح دیتی ہے جس کا حالیہ ثبوت پیپلز پارٹی کی پی ٹی آئی سے قربت اور وزیر اعلیٰ کے پی کا سندھ حکومت کی طرف سے سرکاری استقبال ہے جس کے لیے کراچی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر سعید غنی کا انتخاب کیا گیا جب کہ کراچی میں سندھ کابینہ کے سینئر وزیر بھی موجود تھے۔ سعید غنی کا کراچی آنے والے مہمان وزیر اعلیٰ کو اجرک اور ٹوپی پہنانے میں بھی پیپلز پارٹی کی کوئی مصلحت بھی ہو سکتی ہے۔

پیپلز پارٹی 2008 میں بھی مصلحت کے تحت مسلم لیگ (ن) کو اپنا اتحادی بنا کر اپنی حکومت میں شامل کر چکی ہے مگر جلد وعدہ وفا نہ ہونے پر (ن) لیگ الگ ہوئی تھی تو مصلحت کے تحت اسی (ق) لیگ کو پی پی حکومت میں شامل کر لیا تھا جو پہلے اس کی مخالف تھی، متحدہ قومی موومنٹ بھی اقتداری مصلحت کے لیے (ق) لیگ، پی پی، (ن) لیگ اور پی ٹی آئی حکومتوں میں شامل اور حکومتیں چھوڑتی بھی رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد نے بھی مصلحت کے تحت جنرل مشرف کے وزیروں کو اپنی حکومت میں شامل کیا تھا اور پہلے انھیں واپس نہ لینے کا اعلان کیا تھا۔ پی ٹی آئی بھی اقتدار، سیاسی مفاد کے لیے مصلحت میں مشہور رہی جس نے مصلحت کے تحت ق لیگ سے اتحاد کر لیا تھا۔

اقتداری مصلحت کے تحت پرویز الٰہی کے اپنے خاندان میں بھی سیاسی دراڑ آ چکی ہے اور وہ چوہدری شجاعت سے سیاسی تعلق ختم کرکے پی ٹی آئی سے اقتدار کے لیے امید لگائے بیٹھے ہیں جب کہ سب جانتے ہیں کہ وفاداروں کی قدر پی ٹی آئی کی سرشت میں شامل ہی نہیں ہے وہ تو اقتدار کے لیے طاقتور کو پہلے قوم کا باپ قرار دیتے رہے پھر حکومت چھن جانے کے بعداسی کے خلاف بیانیہ بنا لیا ۔

پیپلز پارٹی کی پی ٹی آئی سے قربت کی وجہ بھی مصلحت ہے اور اسی لیے وزیر اعلیٰ کے پی کو کراچی و حیدرآباد کے دورے میں فری ہینڈ دیا کہ دونوں شہروں میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے بچے کچھے اثر کو ختم کیا جائے کیونکہ وہ اس وقت سندھ میں حکومت کی اپوزیشن ہے جس کو پی ٹی آئی سیاسی نقصان پہنچا چکی ہے۔ پنجاب میں پی پی کا (ن) لیگ سے کوئی مقابلہ ہی نہیں بلکہ وہاں اصل مقابلہ پی ٹی آئی اور (ن) لیگ میں ہے اور پی پی کے اکثر رہنما پی ٹی آئی میں شامل ہیں۔ پیپلز پارٹی (ن) لیگ کی پنجاب پالیسی کی مخالفت میں پی ٹی آئی کے قریب ہونا چاہتی ہے تاکہ آیندہ الیکشن میں (ن) لیگ کی مخالفت میں پی ٹی آئی سے بعض حلقوں میں مدد لے کر کامیابی حاصل کر سکے کیونکہ وہاں مسلم لیگ (ن) مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی کی مصلحت کے تحت پی ٹی آئی سے سندھ حکومت وزیر اعلی مسلم لیگ کی حکومت کیا تھا میں بھی ہے اور چکی ہے اور ان کے لیے میں پی رہی ہے اور پی

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا