صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر
وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدید تنقید،سوشل میڈیا پر جعلی نوٹی فکیشن وائرل ہورہا ہے اس کو دیکھ لیتے ہیں ، وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ کی معاملہ دیکھنے کی یقین دہانی
قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا کرنا پڑگیا، پیپلز پارٹی نے حکومت پر صدر مملکت کے دستخطوں کے بغیر آرڈیننس جاری کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے قومی اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت ہوا، جس میں سابق رکن قومی اسمبلی میاں منظور احمد وٹو سمیت دیگر فوت ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٔر رہنما سید نوید قمر نے نکتہ اعتراض پر ایوان میں موقف اختیار کیا کہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے پروسس شروع ہونے کو وہ خوش آئند سمجھتے ہیں۔انہوں نے ایک صدارتی آرڈیننس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے کہ جب صدر کی منظوری اور دستخطوں کے بغیر ایک آرڈیننس جاری کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے، اس آئینی خلاف ورزی پر پاکستان پیپلز پارٹی ایوان سے واک آؤٹ کرتی ہے۔سید نوید احمد قمر کے یہ کہنے کے ساتھ ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پی پی پی کو یقین دہانی کرائی کہ وہ متعلقہ لوگوں سے چیک کرلیتے ہیں کہ اس پر کیا صورتحال ہے یہ کیسے ہوا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے جعلی نوٹی فکیشن وائرل ہورہا ہے جس کو دیکھ لیتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پاکستان پیپلز پارٹی قومی اسمبلی سے واک ا و ٹ ا رڈیننس
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔