Juraat:
2026-06-02@22:07:57 GMT

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے

اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے

ریاض احمدچودھری

مودی سرکار کا اپنے مذموم ارادوں کے حصول کے لئے بنایا گیا جھوٹا بیانیہ بھارتی عوام نے رد کر دیا۔ سوشل میڈیا پر بھارتی عوام نے مودی کے جنگی جنون اور اس حوالہ سے ایک اور فالس فلیگ ڈرامہ کا پردہ فاش کرتے ہوئے کہا کہ "بہار میں الیکشن کے ایک اہم دور سے پہلے ایک دھماکا کروادیا گیا ہے”۔ ” پلوامہ، اڑی ، پہلگام اور اب لال قلعہ یہ سارے حملے بی جے پی کے دور اور الیکشن کے قریب ہی کیوں ہوتے ہیں "؟ "بہار الیکشن کے قریب ایک اور حملہ بی جے پی کا پرانا ہتھکنڈہ ہے”۔ بھارتی شہری کا کہنا تھا کہ "انتخابات کے دوران ہمدردی کا ووٹ پیدا کرنے کیلئے دہلی میں ایک فالس فلیگ آپریشن کا بہترین انتظام کیا گیا”۔ "بہار کے انتخابات کا پہلا مرحلہ بی جے پی کو پسند نہیں آیا تو ایک بار پھر گندی سیاسی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے”۔ پلوامہ، اڑی ،پٹھان کوٹ ،پہلگام اور اب دہلی حملہ بھارتی عوام مودی کے اوچھے ہتھکنڈوں کو پہچان چکی ہے۔ بغیر کسی شواہد اور تحقیقات کے کسی بھی فالس فلیگ یا سیکیورٹی ناکامی کا الزام پاکستان پر لگانا بھارت کا وطیرہ بن چکا ہے جسے بھارتی شہری بھی اچھی طرح جان چکے ہیں۔
رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ بھارتی فوج نہ صرف جعلی انکاؤنٹرز میں معصوم کشمیریوں کو شہید کر رہی ہے بلکہ شہادت کے بعد ان کی لاشوں کے ساتھ بہیمانہ سلوک کیا جا رہا ہے۔ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی اس غیر انسانی مہم میں ملوث ہیں اور جبری و غیر قانونی حراست کے ذریعے معصوم کشمیریوں اور پاکستانیوں کو جعلی انکاؤنٹرز میں شہید کر رہی ہیں۔ بھارت کی مختلف جیلوں میں 732 بے گناہ قیدیوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں، جبکہ انہیں کسی بھی قانونی رسائی سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ 2003ء سے اب تک بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے 56 پاکستانیوں کو بھی جبری اور غیر قانونی طور پر قید کر رکھا ہے۔ موجودہ صورتحال میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بھارت ان قیدیوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے ایک اور فالس فلیگ آپریشن رچا سکتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی جموں جیل میں قید پاکستانی شہریوں میں سے دو سے تین قیدیوں کو پہلے ہی غائب کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان قیدیوں کو تشدد کے ذریعے زبردستی پاکستان کے خلاف بیان دینے پر مجبور کیا جا سکتا ہے یا پھر انہیں جعلی انکاؤنٹر میں دہشت گرد ظاہر کر کے شہید کیا جا سکتا ہے۔عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بھارت کے ان انسانیت سوز مظالم کا نوٹس لیں اور کشمیری عوام اور قیدیوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔مودی سرکار کے جنگی جرائم عالمی سطح پر بے نقاب ہو چکے ہیں اوردارلحکومت نئی دلی میں بم دھماکے کے بعدغیر قانونی طور پر زیرقبضہ جموں وکشمیر بھارتی جارحیت کی زد میں ہے، جہاں بے گناہ کشمیریوں کے مکانات منہدم کئے جارہے ہیں۔
بین الاقوامی نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی جنگی جرائم کو عالمی سطح پر بے نقاب کیاہے۔ رپورٹ کے مطابق نئی دلی دھماکے کے بعد مودی سرکار مقبوضہ کشمیر میں روایتی جارحیت کا مظاہرہ شروع کردیا ہے۔ بھارت نے دلی دھماکے کے 3 دن بعد جنوبی کشمیر میں محض الزام کی بنیاد پر ایک کشمیری کے گھر کودھماکے سے مسمار کر دیا۔ بھارت ظلم و استبدار کے ذریعہ کشمیر کو عالمی تنازعہ کے بجائے اندرونی معاملہ قرار دے کرانسانیت کے خلاف اپنے جنگی جرائم چھپا رہا ہے۔رپورٹ میں کہاگیاہے کہ 2019سے غیر قانونی گرفتاریاں ، مواصلاتی لاک ڈائون اور خوف ودہشت کی سیاست بھارتی حکمرانی کاہتھیار بن چکی ہیں۔مودی حکومت نے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کا کالا قانون یو اے پی اے کے تحت سیاسی اظہار رائے کو جرم قرار دے دیاہے۔ ٹی آر ٹی کے مطابق سیاسی اختلاف رائے اب قید کے ساتھ ساتھ کشمیری خاندانوں کے مکانات مسمار اور جائیداد ضبطی کا سبب بھی بن رہا ہے۔رپورٹ میں کہاگیاہے کہ 2020 سے 2024 تک بھارتی فوج نے اپنی وحشیانہ کارروائیوں کے دوران 1ہزار172کشمیریوں کے مکانات کا تباہ کیایا نقصان پہنچایا ہے۔
بھارتی فورسز نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے محض شک کی بنیاد پر متعدد کشمیریوں کے مکانات کومسمار کیا۔بھارتی ارکانِ پارلیمنٹ نے بھی مقبوضہ کشمیر میں شہری املاک کو تباہ کرنے کی مودی حکومت کی اس کارروائی کی کھلے عام حمایت کی ہے۔ٹی آر ٹی کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالتی احکمات کے باوجود کشمیریوں کے مکانات بغیر کسی عدالتی نگرانی یا قانونی طریقہ کار کے مسلسل مسمار کیے جا رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ریاستی دہشتگردی صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی بلکہ بین الاقوامی قانونی نظام کی ناکامی بھی ہے۔ اقوام عالم کی خاموشی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت مقبوضہ کشمیر میں جنگی جرائم کو جائز قراردینے کیلئے قانون کا لبادہ پہنا رہا ہے۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: کشمیریوں کے مکانات مودی سرکار جنگی جرائم فالس فلیگ کے بعد رہا ہے کیا جا

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی