ماتلی،حیدرآباد وبدین تاریخی ریلوے سیکشن کی بحالی
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماتلی (جسارت نیوز)حیدرآباد و بدین تاریخی ریلوے سیکشن کی بحالی، عوامی و دفاعی حلقوں میں امیدیں وابستہ،ماتلی سے حیدرآباد تا بدین ایک سو کلو میٹر طویل تاریخی ریلوے سیکشن کی بحالی سے متعلق اطلاعات سامنے آنے پر علاقے کے عوامی اور دفاعی حلقوں میں خوشی اور اطمینان کی فضا پائی جاتی ہے۔ شہریوں نے حکومت کے اس اقدام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے نہ صرف سفری سہولتوں اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا بلکہ دفاعی نقط نظر سے بھی یہ ریلوے سیکشن غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ریلوے سیکشن 14 چھوٹے اور بڑے اسٹیشنوں پر مشتمل ہے۔یہ تاریخی ریلوے لائن برطانوی دورِ حکومت میں 1908ء میں تعمیر کی گئی تھی اور تقریباً 88 برس تک، یعنی 1996ء تک کامیابی کے ساتھ فعال رہی۔ 1960ء کی دہائی میں بدین سے کراچی لنڈا ایکسپریس سمیت متعدد مسافر اور مال بردار ٹرینیں اس روٹ پر چلتی رہیں، جس سے عوام کو کراچی تک براہِ راست سفری سہولت میسر تھی۔سابق صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے دورِ حکومت میں جاپان کی جانب سے تحفے میں دی جانے والی ریل کار کے ذریعے اس سیکشن پر چار اپ اور ڈاؤن سروسز فراہم کی گئیں۔ 1996ء تک اس روٹ پر مجموعی طور پر 12 اپ اور ڈاؤن ٹرینیں چلتی رہیں، جو اس کی افادیت اور عوامی ضرورت کا واضح ثبوت ہے۔سابق ایم پی اے ماتلی عبدالغفور نظامانی کی کوششوں سے بدین تا کراچی شاہ کریم ایکسپریس کی اپ اور ڈاؤن سروس بھی شروع کی گئی، جسے عوامی سطح پر بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی۔ تاہم 1997ء میں اس ریلوے سیکشن پر ٹرین سروس میں مرحلہ وار کمی کا آغاز ہوا اور بالآخر یہ روٹ مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔بعد ازاں سابق ایم این اے بدین ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی کاوشوں سے وفاقی وزارتِ ریلوے نے 22 کروڑ روپے کی لاگت سے اس سیکشن کو بہتر بنا کر ایک اپ ڈاؤن ٹرین سروس دوبارہ شروع کی، تاہم یہ سروس بھی مستقل بنیادوں پر جاری نہ رہ سکی۔دفاعی ماہرین اور مقامی ذرائع کے مطابق یہ ریلوے سیکشن ماضی میں دفاعی نقط نظر سے نہایت اہم رہا ہے۔ 1965ء کی جنگ کے دوران اس روٹ کے ذریعے فوجی دستوں اور دفاعی ساز و سامان کی نقل و حمل کی گئی، جبکہ بدین میں قائم پاکستان آرمی کی بڑی چھاؤنی کو سپورٹ فراہم کرنے میں بدین جنکشن نے کلیدی کردار ادا کیا۔ حیدرآباد اور کراچی کی چھاؤنیوں سے بدین آرمی چھاؤنی تک فوجی دستوں اور سامان کی محفوظ نقل و حرکت کے لیے یہ ریلوے راستہ ایک مؤثر ذریعہ رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تاریخی ریلوے ریلوے سیکشن یہ ریلوے
پڑھیں:
تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
ویب ڈیسک:کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی، ریسکیو نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا۔
چیئرمین ریلوے نے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی جو 7 روز میں رپورٹ پیش کرے گی۔
ترجمان ریلوے کے مطابق کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں خانیوال کے قریب اچانک آگ لگ گئی جس پر پاور وین کو ٹرین سے الگ کردیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
آگ نے دیکھتے دیکھتے پوری پاور وین کو لپیٹ میں لے لیا، اطلاع ملنے پر ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا جس کے بعد ٹرین کو راولپنڈی روانہ کردیا گیا۔
چیئرمین ریلویز نے پاور وین میں آگ لگنے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو سات روز میں رپورٹ پیش کرے گی۔