پاکستان اور انڈونیشا دفاعی پیداوار میں تعاون کیلیے ورکنگ گروپ بنانے پر متفق
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(نمائندہ جسارت) انڈونیشیا کے ایک اعلیٰ سطح دفاعی وفد نے وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر)جافری شمس الدین کی سربراہی میں آج راولپنڈی میں وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار محمد رضا حیات ہراج اور وزارت دفاعی پیداوار کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار نے کہا کہ پاکستان انڈونیشیا کو ایک قریبی دوست اور برادر مسلم ملک
سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ اہم معاملات نے اعلیٰ پیداواری تعلقات کی رفتار قائم کی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ پاکستان میں دفاعی پیداوار کے شعبے میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور دونوں ممالک کے اداروں کے درمیان دفاعی پیداوار میں تعاون کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس کے قیام پر رضامندی کا اظہار کیا۔ انڈونیشیا کے وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) جافری شمس الدین نے مشترکہ ورکنگ گروپس کو تیز کرنے میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس سے مستقبل میں تعاون کے دروازے کھلیں گے اور ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو تلاش کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے میں مدد ملے گی۔وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار رضا ہراج نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور ایک دوسرے کے لیے خیر سگالی کے جذبات سے متصف ہیں۔ دفاعی پیداوار کے وزیر نے انڈونیشیا کے حکام کو دفاعی تعاون کو تلاش کرنے کے لیے دفاعی نمائش (آئیڈیاز۔2026) میں فعال طور پر شرکت کی دعوت بھی دی۔انڈونیشیا کے وفد کی جانب سے انڈونیشیا کے وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) جافری شمس الدین نے پرتپاک مہمان نوازی پر وزیر دفاعی پیداوار کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک بہت اہم ملک ہے جس میں بھرپور ثقافت، کام کرنے والی جمہوریت اور متحرک معیشت ہے۔ دونوں فریقوں نے امید ظاہر کی کہ برادرانہ تعلقات کو باہمی اعتماد اور احترام کی بنیاد پر طویل مدتی تعلقات میں تبدیل کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دفاعی پیداوار انڈونیشیا کے نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔