پاکستان اور انڈونیشیا کا دفاعی پیداوار میں تعاون کے لیے ورکنگ گروپ کے قیام پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 12th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
انڈونیشیا کے ایک اعلیٰ سطح دفاعی وفد نے وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر)جافری شمس الدین کی سربراہی میں آج راولپنڈی میں وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار محمد رضا حیات ہراج اور وزارت دفاعی پیداوار کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔
وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار نے کہا کہ پاکستان انڈونیشیا کو ایک قریبی دوست اور برادر مسلم ملک سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ اہم تعاملات نے اعلیٰ پیداواری تعلقات کی رفتار قائم کی ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ پاکستان میں دفاعی پیداوار کے شعبے میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور دونوں ممالک کے اداروں کے درمیان دفاعی پیداوار میں تعاون کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس کے قیام پر رضامندی کا اظہار کیا۔
انڈونیشیا کے وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) جافری شمس الدین نے مشترکہ ورکنگ گروپس کو تیز کرنے میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس سے مستقبل میں تعاون کے دروازے کھلیں گے اور ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو تلاش کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے میں مدد ملے گی۔
وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار رضا ہراج نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور ایک دوسرے کے لیے خیر سگالی کے جذبات سے متصف ہیں۔
دفاعی پیداوار کے وزیر نے انڈونیشیا کے حکام کو دفاعی تعاون کو تلاش کرنے کے لیے دفاعی نمائش (آیڈیاز۔2026) میں فعال طور پر شرکت کی دعوت بھی دی۔
انڈونیشیا کے وفد کی جانب سے انڈونیشیا کے وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) جافری شمس الدین نے پرتپاک مہمان نوازی پر وزیر دفاعی پیداوار کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک بہت اہم ملک ہے جس میں بھرپور ثقافت، کام کرنے والی جمہوریت اور متحرک معیشت ہے۔ دونوں فریقوں نے امید ظاہر کی کہ برادرانہ تعلقات کو باہمی اعتماد اور احترام کی بنیاد پر طویل مدتی تعلقات میں تبدیل کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دفاعی پیداوار انڈونیشیا کے نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔