اچکزئی کے بیان پر بلوچستان عوامی پارٹی کا سخت ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260113-08-15
کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک) بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے ترجمان میر ضیا اللہ لانگو نے محمود خان اچکزئی کے بیان پر سخت رد عمل دیا ہے، جس میں انہوں نے 4 ماہ کے اندر بعض علاقوں کی پاکستان سے علیحدگی کا دعویٰ کیا تھا۔ ایک بیان میں بی اے پی کے ترجمان نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کی سیاست ہمیشہ لسانی نفرت، قومی انتشار اور منفی بیانیے کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اچکزئی نے ہمیشہ بلوچ اور پشتون قوموں کے درمیان نفرت کو ہوا دی اور ماضی میں بلوچستان کے عوام کے دلوں میں پنجابیوں کے خلاف زہر بھرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ میر ضیا اللہ لانگو نے کہا کہ محمود خان اچکزئی نے کبھی قومی یکجہتی، بھائی چارے اور ملک کے استحکام کی بات نہیں کی بلکہ ان کی سیاست توڑ پھوڑ، علیحدگی اور نفرت پر مبنی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سوچ صرف خوابوں میں اچھی لگتی ہے، عملی سیاست میں اس کی کوئی جگہ نہیں۔بی اے پی ترجمان کا کہنا تھا کہ حالیہ انتخابات میں بلوچستان کے عوام نے محمود خان اچکزئی کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے اور اب وہ اپنی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کو سہارا دینے کے لیے پی ٹی آئی کا کندھا استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’دہ چترال دہ بولان‘‘ جیسے نعرے عوام پہلے ہی دیکھ اور سمجھ چکے ہیں۔میر ضیا اللہ لانگو نے مزید کہا کہ خواب دیکھنا کوئی جرم نہیں، مگر دن دہاڑے ایسے خواب دیکھنا سیاسی ناپختگی کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات سے محمود خان اچکزئی کا پاکستانی ہونا بھی مشکوک ہو گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: محمود خان اچکزئی نے کہا کہ
پڑھیں:
استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
سٹی 42 : آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات میں استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔
استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر و سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان طویل ملاقات کے بعد مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کے بعد بھی باہمی سیاسی تعاون، مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
کن انتخابی حلقوں میں کس جماعت کے امیدوار کی حمایت کی جائے گی، اس کا حتمی فیصلہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد اعلان کرے گی۔
دونوں قائدین نے مسلح افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کو ملک میں امن کے قیام، مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی، مسئلہ کشمیر سمیت اہم امور پر جاندار موقف دنیا کے سامنے ٹھوس طریقے سے سامنے لانے پر خراج تحسین پیش کیا.