پورٹ قاسم پاکستان کی قومی معیشت کا اہم گیٹ وے بنے گا: وزیر بحری امور
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
کراچی (کامرس رپورٹر) وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری کی زیر صدارت پورٹ قاسم پر اہم اجلاس میں پورٹ قاسم کیلئے کلائمیٹ ریزیلینٹ انڈسٹریل کمپلیکس کے طویل المدتی منصوبے کا اعلان کردیا گیا۔ جنید انوار چوہدری نے کہا کہ پورٹ قاسم کو عالمی صنعتی و لاجسٹک مرکز بنائیں گے، پورٹ قاسم پاکستان کی قومی معیشت کا اہم گیٹ وے بنے گا۔ پورٹ قاسم کا ترقیاتی منصوبہ 14 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر محیط ہے۔ پورٹ قاسم انڈسٹریل کمپلیکس کو تین مختلف زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ مشرقی زون ہیوی انڈسٹری اور ایکسپورٹ یونٹس کیلئے مختص ہے۔ شمال مغربی زون میں ویلیو ایڈڈ انڈسٹری اور پورٹ سروسز کے فروغ کا منصوبہ ہے، جنوبی مغربی زون میں خصوصی صنعتی اور کمرشل سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ پورٹ قاسم میں 833 صنعتی یونٹس فعال، 40 زیر تعمیر ہیں، پورٹ قاسم صرف بندرگاہ نہیں بلکہ متحرک صنعتی ایکو سسٹم ہے، جنید انوار چوہدری نے پورٹ قاسم انڈسٹریل کمپلیکس روزگار، سرمایہ کاری اور پائیدار ترقی کا مرکز بنے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔