لاہور ہائیکورٹ: ناصر باغ پارک کی بحالی کا حکم، عملدرآمد رپورٹ طلب
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2026 GMT
لاہور (خبر نگار) لاہور ہائیکورٹ نے سموگ تدارک کیس میں ناصر باغ پارک کی بحالی کا حکم دیتے ہوئے آئندہ سماعت پر عمل درآمد رپورٹ طلب کرلی۔لاہورہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے شہری ہارون فاروق سمیت دیگر درخواست گزاروں کی درخواستوں پر سماعت کی، دوران سماعت ممبر جوڈیشل واٹر کمیشن نے کینال روڈ سے درختوں کی کٹائی سے متعلق رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ درخت کاٹے نہیں گئے بلکہ صرف شاخیں کاٹی گئی ہیں، تین بڑی شاخیں انڈر پاس کی جانب بڑھ رہی تھیں۔وکیل پی ایچ اے نے موقف اختیار کیا کہ یہ روٹین کارروائی تھی اور شاخیں نہ کاٹنے کی صورت میں حادثہ پیش آسکتا تھا، اس پر جسٹس شاہد کریم نے استفسار کیا کہ درخت کی وجہ سے کیا حادثہ پیش آسکتا تھا اور اب تک کتنے حادثات ہوئے ہیں؟وکیل پی ایچ اے نے بتایا کہ پی ایچ اے نے پروجیکٹ ڈائریکٹر کو معطل کر دیا ہے اور ان کے خلاف پیڈ ایکٹ کے تحت کارروائی شروع ہو چکی ہے، بیرسٹر حارث عظمت نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نئے پروجیکٹ ڈائریکٹر عدالت میں موجود ہیں، داتا دربار کے قریب ٹیپا نے ایک پرانے درخت کو اکھاڑنے کی کوشش کی جس پر شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔جسٹس شاہد کریم نے حکم دیا کہ ناصر باغ کے پارک کو پی ایچ اے اپنی نگرانی میں بحال کرے گا، عدالت نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ڈی جی پی ایچ اے کی اجازت اور علم کے بغیر کسی بھی درخت کی شاخیں نہیں کاٹی جائیں گی۔ جبکہ عدالت نے آئندہ سماعت پر عمل درآمد رپورٹ طلب کرلی۔ جسٹس ارشد ندیم کی سربراہی میں قائم دو رکنی بنچ نے ناصر باغ میں پارکنگ پلازہ بنانے کیخلاف درخواست سنگل بنچ کو بھجوانے کے نکتے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ دو رکنی بنچ کے سماعت کرنے سے اپیل دائر کرنے کا حق متاثر ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پی ایچ اے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔