اسلام آباد ؍ لاہور (اپنے سٹاف رپورٹر سے+ نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیراطلاعات و نشریات عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ سہیل آفریدی نے افغان حکومت کا ترجمان بن کے جھوٹ اور منافقت کی انتہا کر دی۔ ایکس پر سہیل آفریدی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے عطاء تارڑ نے لکھا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پی کے سہیل آفریدی آج افغانستان کے ترجمان کے طور پر بات کر رہے تھے جو انتہائی قابل مذمت ہے اور شرمناک ہے۔ پوری دنیا نے افغان طالبان رجیم کی دہشت گردوں کی پشت پناہی کے ثبوت دیکھے ہیں۔ وزیر اطلاعات نے لکھا  تحریک انتشار والے جب بھی منہ کھولتے ہیں، دہشت گردوں کی سہولت کاری کرتے ہیں۔ پاکستان کی ترقی فتنہ الخوارج کو قابل قبول نہیں،ٰ سہیل آفریدی کو ہوش کے ناخن لینے چاہیئں۔ قومی پیغام امن کمیٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا  قومی پیغام امن کمیٹی کے سیکرٹریٹ کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے، ملک میں امن کے لیے علمائے کرام کا اہم کردار ہے۔ دہشت گردوں کا کوئی مذہب اور ملک نہیں، وزیر اطلاعات نے کہا کہ پوری امت کا اجماع ہے کہ پاکستان کی ریاست کے خلاف کوئی جہاد نہیں ہو سکتا، ہم امن کا فروغ چاہتے ہیں،  قومی پیغام امن کمیٹی کا مقصد امن کے پیغام کو پھیلانا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کے بیانیے کا بھرپور اور ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا اور انہیں اپنا نظریہ پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کمیٹی کل پشاور کا دورہ کرے گی، جہاں تمام مکاتبِ فکر کے علماء سے گفتگو کی جائے گی اور یہ پیغام عام کیا جائے گا کہ اسلام امن، رواداری اور بھائی چارے کا دین ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ کون سا اسلام ہے جس کے نام پر بھارت سے فنڈنگ لے کر پاکستان میں دھماکے کیے جائیں؟ افغان حکومت ہر دوسرے روز بھارت جا کر مذاکرات کر رہی ہے، آئے روز فتنہ خوارج اور فتنہ الہندوستان کے عزائم کھل کر سامنے آتے جا رہے ہیں۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی قیادت میں پوری قوم دہشتگردی کے خلاف متحد اور تیار ہے، ریاست دشمن عناصر کے عزائم کو ناکام بنایا جائے گا۔ مزید برآں عطاء تارڑ کا کہنا تھا کہ پیغام امن کمیٹی میں اقلیتی اراکین بھی شامل ہیں اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ علاوہ ازیں وفاقی وزیر اطلاعات عطاء  اللہ تارڑ نے آئی بی اے کراچی کے زیر اہتمام ڈائیلاگ سے خطاب کرتے کہا کہ مس انفارمیشن موجودہ دور کا سب سے بڑا اور سنگین چیلنج ہے ۔ اس سے نمٹنے کیلئے حکومت، میڈیا، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے فروغ کے بعد غلط معلومات سے نمٹنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔ بطور وزیر اطلاعات متعدد اقدامات اٹھائے‘  وزارت کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے معلومات کی تصدیق کی جاتی ہے، جعلی خبروں کو باقاعدہ طور پر فیک انفارمیشن کا لیبل لگایا جاتا ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا آئی بی اے نے آئی ویریفائی پاکستان کے قیام کے حوالے سے شاندار کام کیا ہے۔ آئی ویریفائی کے حوالہ جات نہ صرف قومی سطح پر دیئے جاتے ہیں بلکہ بین الاقوامی جرائد اور عالمی میڈیا پلیٹ فارمز بھی اسے کثرت سے بطور مستند ذریعہ استعمال کر رہے ہیں۔ مس انفارمیشن کی تدارک کیلئے  کمیونٹی، حکومت، میڈیا ہاؤسز، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ وزیر اطلاعات نے کہا پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن اور آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی سے بھی درخواست ہے کہ وہ آگے آئیں اور اپنا فعال کردار ادا کریں‘ یو این ڈی پی کیساتھ پہلے ہی اس ضمن میں ایک پروگرام پر کام کیا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور انکی والدہ مسلم لیگ ن کی رہنما ساجدہ فاروق تارڑ نے وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر سیاسی امور و پبلک افیئر سید توصیف شاہ کے دفتر چیمہ ہاؤس کا دورہ کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے اپنے حلقے کے عوامی نمائندوں، چیئرمینز، وائس چیئرمینز، سینئر کارکنوں، کونسلرز، خواتین رہنماؤں اور لیڈی کونسلرز سے ملاقات کی اور انکے مسائل تفصیل سے سنے۔ شرکاء اجلاس نے مسلم لیگ (ن) کی حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کیا ، ترقیاتی کاموں کو سراہا۔ وزیر اطلاعات نے کہا حکومت عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ ملک اب استحکام کے بعد ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے، پچھلے سال مئی میں عسکری فتح اور معاشی اقدامات کے باعث پاکستان کو عالمی سطح پر عزت و وقار حاصل ہوا ہے۔ آخر میں انہوںنے ملاقات میں شریک قائدین اور کارکنوں کا شکریہ ادا کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: وزیر اطلاعات نے کہا وفاقی وزیر اطلاعات پیغام امن کمیٹی عطاء تارڑ تارڑ نے

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ